BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 October, 2004, 15:38 GMT 20:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکہ: آنکھوں دیکھے کے بیان
مسجدِ زینبیہ
دھماکے کے بعد مسجدِ زینبیہ کے باہر لوگوں کا اجتماع
سیالکوٹ میں جمعہ کو فرقہ وارانہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والی
امام بارگاہ مستری عبداللہ کے خطیب فیض علی کرپالوی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس حملے میں ملوث افراد کا جلد از جلد پتہ لگا کر کیفر کردار تک پہنچائے۔

دھماکے کے بعد بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے امام بارگاہ مستری عبداللہ کے خطیب مولانا فیض علی کرپالوی نے جو خود بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں کہا کہ ابھی اس بات کی تصدیق نہیں کی جا سکتی کہ دھماکہ کسی بریف کیس کے ذریعے کیا گیا تھا۔

مولانا کرپالوی نے کہا کہ انہوں نے دن کے ڈیڑھ بجے نے خطبہ شروع کیا ہیں تھا کہ دو منٹ بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ ہر طرف گرد و غبار چھا گیا اور کچھ لمحوں کے لیے سب کچھ اندھیرے میں ڈوب گیا۔

انہوں نے کہا کہ حواس بحال ہونے کے بعد انہوں نے گرد و پیش کا جائزہ لیا تو ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں اور بہت سے لوگ زخموں سے کراہا رہے تھے۔

پولیس کے ذرائع نے بتایا کہ دھماکے سے پہلے ایک شخص بریف کیس لے کر امام بارگاہ میں داخل ہوا اور اس کے کچھ دیر بعد دھماکہ ہوا۔

مولانا کرپالوی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا دھماکے سےپہلے کوئی شخص بریف کیس لے کر امام بارگاہ میں داخل ہوا تھا تو انہوں نے کہا کہ امام بارگاہ کے گیٹ پر متعین ان کے عملے نے ایسی کسی بات کی تصدیق نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے عملے نے کسی شخص کو بریف لے کر امام بارگاہ میں داخل ہوتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔

مسجدِ زینبیہ
مسجدِ زینبیہ یا دہشت گردی کا نشانہ بننے والی امام بارگاہ مستری عبداللہ

انہوں نے کہا کہ امام بارگاہ کے دروازے پر پولیس اور ان کا اپنا عملہ بھی موجود تھا اور وہ لوگوں کو چیک کر کے اندر بھیجتے ہیں۔

تاہم موقع پر موجود افراد نے بی بی سی کو بتایا کہ امام بارگارہ کی بیرونی دیوار کے قریب ایک بریف کیس سے دو بم برآمد ہوئے ہیں جنہیں بم ناکارہ بنانے والے عملے نے ناکارہ بنا دیا ہے۔

ایک اور شیعہ خطیب ذوالفقار حسین نقوی نے کہا کہ دھماکے سے امام بارگاہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا دھماکے سے فرش میں ایک گڑھا پڑ گیا ہے جب کہ عمارت کی کھڑکیاں اور دروازے بھی ٹوٹ گئے۔

انہوں نے بتایا کہ امام بارگاہ کی چھت تک خون کے چھینٹے پڑے ہیں اور انسانی جسم کے چیتھڑے چپکے ہوئے ہیں۔

انہوں نے مقامی انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں بے حس قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے کے دو گھنٹے بعد تک انتظامیہ کا کوئی شخص موقع پر نہیں پہنچا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد