شیعہ مسجد میں دھماکہ: 27 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کو تقریبا ڈیڑھ بجے سیالکوٹ شہر میں شیعہ مسلک کی سب سے بڑی مسجد اور امام بارگاہ میں نماز جمعہ کےدوران میں دھماکے سے کم سے کم 27 افراد ہلاک اور 50 سے زیادہ افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ایک خود کش دھماکہ ہو سکتا ہے۔ مقامی افراد نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس دھماکے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ سیالکوٹ کے ضلعی پولیس افسر نثار سرویہ نے کہا کہ لوگ پولیس کو امام بارگاہ کے اندر نہیں جانے دے رہے۔ کچھ لاشیں ابھی تک مسجد کے اندر موجود ہیں اور پولیس نے اس جگہ کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اس لیے مرنے والوں کی صحیح تعداد کا تعین نہیں ہورہا۔ عینی شاہدین کے مطابق کہ راجہ روڈ پر مصروف کاروباری اور رہائشی علاقہ میں واقع اس مسجد اور امام بارگاہ میں ، جسے مستری عبداللہ کی مسجد یا زینبیہ امام بارگاہ کہتے ہیں، جمعہ کے خطبے کے دوران میں ایک شخص ایک بریف کیس لے کر داخل ہوا اور چند منٹ کے بعد دھماکہ ہوگیا جس سے مسجد میں ہر طرف دھواں چھا گیا اور اس کے شیشے ٹوٹ گئے۔ دھماکے کے وقت مسجد کا ہال نمازیوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس میں تقریبا ایک ہزار لوگوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور فرش میں ڈیڑھ فٹ گہرا اور دو فٹ چوڑا گڑھا پڑ گیا۔ مقامی پولیس کے ایس ایچ او آصف جوئیہ کا کہنا ہے کہ یہ خود کش دھماکہ ہے۔ اس جگہ سے ملنے والے مشکوک بریف کیس کو بم ڈسپوزل اسکواڈ نے قبضہ میں لے لیا ہے۔
اس واقعہ کے بعد لوگوں نے مسجد کے باہر پولیس اور حکومت کے خلاف مظاہرہ کیا ، پولیس کی ایک گاڑی کو آگ لگادی اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ زخمیوں کو مقامی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے جہاں ضلعی ناظم نعیم جاوید کےمطابق ایمرجنسی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسجد کے باہر حفاظت کے لیے پولیس گارڈ تعینات تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||