جائیں تو جائیں کہاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کردار: 1: سوچی (ایک جاپانی سیاح) 2: لی (سوچی کا دوست) 3: ٹام (ایک ٹور آپریٹر) 4: زبیر (بارہ سال کا ایک پاکستانی لڑکا) 5: کلیم (زبیر کا محلے دار اور ہم عمر دوست) 6: سورین (ایک سویڈش سیاح) 7: بی (سورین کی گرل فرینڈ) 8: نورا (ایک اطالوی امدادی کارکن) 9: ناہید: (نورا کے دفتر کی پاکستان برانچ میں کام کرنے والی امدادی کارکن) 10: فضل دین، ایک باریش پٹھان اور اس کے چار نوجوان ساتھی پردہ اٹھتا ہے: پہلا سین: (نیویارک کی مشہور سکائی لائن اور اس کی سب سے بڑی عمارت کی چھت کے اوپر سے مینہیٹن اور اس کے گردونواح کا نظارہ کرتے ہوئے سیاح)۔ سوچی: دیکھو لی کتنا خوبصورت نظارہ ہے۔ ہم کتنے بلند ہیں، لگتا ہے کہ خدا کے پاس ہی پہنچ گئے ہیں۔ انسان کی عظمت کا اندازہ اس سے بہتر کیا لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کبھی ہار نہیں مانتا، کبھی نہیں رکتا۔ آگے بڑھتا رہتا ہے۔ لی: (سکائی لائن پر نظریں جمائے ہوئے) سوچی کیا کبھی کسی نے سوچا تھا کہ انسان چاند پر چلا جائے گا، مریخ پر پاؤں رکھنے کی کوشش کرے گا اور زمین کے راز معلوم کرے گا۔ لگتا ہے کہ خدا اپنے راز خود کھول رہا ہے۔ لیکن یہاں امریکہ آ کر تو یہ نہ ماننا بھی گناہ لگتا ہے کہ ان سب باتوں کے پیچھے اس عظیم قوم کا، اس عظیم ملک کا بھی ہاتھ ہے۔ (سوچی کا ہاتھ پکڑتا ہے)۔ سوچی میں یہ شاید جاپان میں نہ کہہ پاتا یا شاید یہ سمجھ ہی نہ پاتا کہ land of opportunities کیا ہے۔ ہم تو صرف land of the rising sun کو جانتے ہیں۔ امریکہ ویسے ہی امریکہ نہیں بنا، اس کے پیچھے ایک سوچ ہے، ایک خیال ہے اور یہاں کے لوگ ہیں۔ جو چاہے کہیں سے بھی آئیں اس کے رنگ میں رنگ جاتے ہیں۔ ٹام: (ایک قدم ان کے قریب آتے ہوئے) جی آپ نے سچ کہا۔ ہمارا ملک ہی ایسا ہے۔ اپنے اندر سب کو سما لیتا اور لوگ اپنے اپنے جھگڑے بھول کر یہاں بہتر زندگی کے حصول میں لگ جاتے ہیں۔ کسی کو کسی سے کوئی واسطہ نہیں، سب خوش ہیں۔ ہم سب بالکل ہالی وڈ کی طرح ہیں۔ ہمارا ملک ایک سٹوڈیو ہے اور یہاں ہر ایکٹر اور ٹیکنیشیئن اپنا اپنا کام کر رہا ہے۔ ہمارے ملک اور گھروں کی طرح ہمارے دل بھی بہت بڑے ہیں۔ (ہنس کر)۔ اس لیے شاید آپ کو امریکہ میں ہر چیز بڑی ملے گی۔ سوچی: (دور جزیرے پر لگے آزادی کے مجسمے پر نظرے جمائے ہوئے) لی مجھ سے وعدہ کرو کہ ہم شادی جاپان میں نہیں کریں گے۔ بلکہ وہاں سے واپس آ کر ہم اس عظیم عمارت کی چھت پر ہی ایک نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔ شاید یہاں اتنی اونچائی پر ہم پر خدا کی رحمت زیادہ ہو۔ ایک جہاز عمارت کے بالکل قریب آجاتا ہے۔ دھماکہ، قیامت کا سا شور اور پھر کالا دھواں ہر چیز کو کھا جاتا ہے۔ دوسرا سین: (لاہور کی ایک مسجد کا صحن جہاں کچھ نمازی بیٹھے اور کچھ وضو کر رہے ہیں۔ ابھی جماعت کھڑی ہونے میں کچھ وقت باقی ہے۔ ایک طرف ستون کے پاس بارہ تیرہ برس کے دو بچے بیٹھے ہیں اور آہستہ آہستہ باتیں کر رہے ہیں)۔ زبیر: (مسجد کی گھڑی کو دیکھتے ہوئے)۔ یار کلیم یہ نماز کب شروع ہوتی ہے۔ مجھے تو مسجد میں آئے کئی سال ہو گئے ہیں۔ نماز کا وقت ہی بھول گیا ہوں۔
کلیم: (مسکراتے ہوئے) اگر روزانہ آتے تو یاد رہتا نا۔ مسلمان ہو کر نماز کے اوقات بھول گئے ہو، حالانکہ مسجد گھر سے کتنی قریب ہے۔ زبیر: یار مذاق نہ کرو، میں تو دل ہی دل میں آیتیں یاد کرنے کی بھی کوشش کر رہا ہوں اور تم ہو کے ڈراتے جا رہے ہو۔ تمہیں تو پتہ ہے نہ میں نے مسجد میں آنا کیوں چھوڑا تھا۔ تم ساتھ ہی تو تھے۔ یاد ہے نہ وہ ڈراؤنا مولوی، ہاتھی جتنا موٹا۔ کلیم: اچھی طرح یاد ہے اور اس کی وہ لمبی مسواک بھی یاد ہے جو اس نے تمہارے ٹخنوں پر ماری تھی۔ زبیر: کلیم، شاید اس وقت اتنا درد نہیں ہوا تھا۔ لیکن ہاں، وہ ضرب مجھے مسجد سے دور ضرور لے گئی۔ بہت دور۔ ذرا سوچو نماز پڑھنے کے لیے ٹخنوں سے اونچی شلوار کیوں اتنی ضروری ہے۔ کیا اس کے بغیر نماز نہیں پڑھی جا سکتی۔ اور یہ بات وہ ہاتھی مولوی کسی اور طرح بھی سمجھا سکتا تھا۔ سب کے سامنے اتنی زور سے مسواک ماری۔ کلیم: اسے بھول جاؤ۔ خدا کو یاد کرو۔ بلکہ یہ بتاؤ آج اچانک یہاں کیسے آگئے۔ زبیر: یار اگر آج بھی ماں واسطے نہ دیتی تو شاید نہ آتا۔ ماں اتنا روئی کہ رہا نہیں گیا۔ پتہ نہیں ماں نے کیوں ضد پکڑ لی کہ آج میں ضرور مسجد جاؤں۔ میرے باپ کی برسی ہے نا۔ پہلے بھی برسی ہوتی تھی لیکن کبھی اتنا رونا دھونا نہیں ہوا۔ کم از کم میرے مسجد جانے پر تو نہیں ہوا کبھی۔ ماں کا رونا مجھ سے دیکھا نہ گیا اور اب یہاں تمہارے سامنے بیٹھا دیوار پر لگی گھڑی دیکھ رہا ہوں۔ اذان ہوتی ہے اس کے بعد دونوں بچے نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک دم ایک زور دار دھماکے کے ساتھ مسجد کی چھت اڑ جاتی ہے۔ بچے کھچے ستونوں اور فرش پر ہر طرف خون ہی خون ہے۔ سفید کپڑوں اور سرخ خون نے مسجد کے فرش پر ایک عجیب سا ڈیزائن بنایا ہوا ہے۔ تیسرا سین: انڈونیشیا کے ایک جزیرے میں لوگوں سے بھرا ہوا ایک نائٹ کلب۔ ہر کوئی محوِ رقص ہے، مستی ہے، زندگی ہے۔ رنگ برنگی روشنیاں ایک کے بعد ایک لوگوں پر پڑتی ہیں اور چند لمحات کے لیے ان کے چہرے روشن کرنے کے بعد گھومنے لگتی ہیں۔
سورین: (بی کی کمر میں ہاتھ ڈالے ہوئے) بی، اگر آوازیں نہ ہوں تو ہم سب سائے ہیں۔ کیا آواز ہی زندگی کی نوید ہے۔ اگر ہم لوگ چپ بیٹھے رہیں تو کیا زندگی کا اتنا لطف نہیں اٹھا سکیں گے۔ جھوم میری جان جھوم۔ بی: (سورین کی باہوں اور ماحول کی گرمی کے نشے میں چور) سورین ناچو، ناچو اتنا ناچو کہ ہم دونوں ایک دوسرے میں گم ہو جائیں۔ سب کچھ ایک ہو جائے۔ جھومتے ہوئے ترک درویشوں کی طرح۔ جو مستی میں گھوم گھوم کر اتنا ناچتے ہیں کہ وقت اور جگہ کی قید سے آزاد ہو جاتے ہیں۔ وقت کی قید سے آزاد ہو جاؤ، سورین۔ (’جھوم لے، مستی میں جھوم لے‘ گانے کی دھن بج رہی ہے اور ناچنے والے دیوانہ وار اس پر اپنے جسم تھرکا رہے ہیں)۔ سورین: میں نے کبھی پڑھا تھا کہ اگر آپ کو اپنا غم اپنے جسم سے باہر نکالنا ہو تو کسی چیز کو باہوں میں جکڑ لو اور زور سے چیخو۔ تمہارے اندر کا غم چیخ کے ساتھ ہی باہر نکل جائے گا۔ (’ناچ، اس طرح ناچ کہ یہ تیری زندگی کی آخری رات ہے، ناچ اس طرح ناچ کہ یہ تیری زندگی کی آخری رات ہے‘ گاننے کی دھن اور تیز ہو گئی ہے۔ میوزک اور لوگوں کے شور میں کان کے پردے پھاڑنے والا ایک اور شور بلند ہوتا ہے۔ کچھ دیر بعد سورین، بی کے مردہ جسم کو پکڑ کر زور زور سے چیخ رہا۔ ’ناچ، اس طرح ناچ کہ یہ تیری زندگی کی آخری رات ہے، ناچ، اس طرح ناچ کہ یہ تیری زندگی کی آخری رات ہے‘ گانا بجتا جا رہا ہے)۔ چوتھا سین: (پاکستان کے شمالی علاقے میں اونچے اونچے پہاڑوں کے درمیان ایک خوبصورت وادی۔ دو لڑکیاں نورا اور ناہید ایک بڑے پتھر پر بیٹھی باتیں کر رہی ہیں۔ ابھی دن ہے لیکن پہاڑوں کی خاموشی سے لگتا ہے کہ کچھ دیر بعد شام ہو جائے گی)۔ نورا: (سر سبز وادی پر نگاہ ڈالتے ہوئے) ناہید تم جنت میں رہتی ہو۔ میں نے بہت دنیا دیکھی ہے لیکن خاموشی اور خوبصورتی کا اتنا اچھا امتزاج میں نے کہیں نہیں دیکھا۔ ایسی خاموشی جو باتیں کرتی ہے اور ایسا حسن جو اتنا عیاں ہونے کے بعد بھی اپنی دلکشی نہیں کھوتا۔ واقعی یہ جنت ہے۔
ناہید: (جو نورا کے ان تعریفی کلمات سے بہت خوش ہے۔ اٹھ کر پاس ہی سے ایک جنگلی پھول توڑتی ہے اور نورا کو دے دیتی ہے)۔ ناہید: یہ لو ہماری جنت کا ایک نمونہ۔ یہ جگہ ہی ایسی ہے۔ سادہ اور خوبصورت، بالکل یہاں رہنے والے لوگوں کی طرح، سادہ اور خوبصورت۔ میں تو خود شہر میں رہ رہ کر تنگ آ جاتی ہوں۔ کاش میں ہمیشہ کے لیے یہاں رہ جاؤں۔ (احسان دانش کا شعر گنگناتی ہے۔ ’جی یہ چاہتا ہے فراقِ انجمن سہنے لگوں، شہر کی رنگینیاں چھوڑوں یہیں رہنے لگوں۔) نورا: یہ کیا گنگنا رہی ہو۔ (ناہید نورا کو اس کا ترجمہ بتاتی ہے)۔ نورا: بہت خوبصورت ہے، بالکل اس جگہ کی طرح۔ میں تو خود سمجھتی ہوں کسی ایسی جگہ جا کر بس جاؤں۔ شادی کروں، بچے پیدا کروں اور ان کے ساتھ ان پہاڑوں پر بالکل ان ہی کی طرح کھیلا کروں۔ ناہید: نورا، تمہیں معلوم ہے کہ تم مجھے کیوں پسند ہو۔ تمہاری خواہشیں بھی میری طرح چھوٹی چھوٹی ہیں۔ ایسی خواہشیں جن کو پورا کرنے کے لیے ان بلند و بانگ پہاڑوں کو جھکنا نہیں پڑے گا۔ نورا، خدا کرے تمہاری سب خواہشیں پوری ہوں۔ (یکدم بڑی بڑی پگڑیاں پہنے پانچ لمبے لمبے آدمی کہیں سے آ نکلتے ہیں اور انہیں گھیر لیتے ہیں۔ ایک شور بلند ہوتا ہے اور سات مختلف آوازیں ایک دوسرے میں ایسی ضم ہیں کہ کسی کا کچھ مطلب نہیں نکلتا۔ قریبی درخت سے پرندے شور مچاتے اڑ جاتے ہیں۔ آنے والے نورا اور ناہید دونوں کے بازو پکڑ لیتے ہیں)۔ ایک آدمی: (نورا کو پکڑے ہوئے) انہیں کوئی نہ چھوڑے، یہ کافر ہیں۔ اس جگہ کو پلید کرنے آئیں ہیں۔ جذبات مجروح کرتی ہیں یہ سالیاں۔ پکڑو انہیں کوئی نہ چھوڑے۔ (دوسرا آدمی ناہید کے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کر دیتا ہے)۔ تیسرا آدمی: ان کے دفتر میں کئی مرتبہ جا کر کہا کہ یہاں عورتیں نہ بھیجو۔ یہ ننگی باہیں اور ننگے سر لیے اس جگہ گھومتی رہتی ہیں۔ ہمارے لڑکے ان کو دیکھتے ہیں مگر وہ پھر بھی نہیں مانے۔ تعلیم پھیلانی ہے انہوں نے۔ عورتوں کی صحت بہتر کرنی ہے۔ ہمیں تعلیم نہیں چاہیئے اور نہ ہی ہماری عورتوں کی صحت خراب ہے۔ ان سالیوں کو تو بہت سخت سزا دینی چاہیئے تاکہ کوئی اور ننگے سر والی یہاں پھر کبھی نہ آئے۔ فضل صاحب آپ ہی ان کی سزا مقرر کریں۔ (ناہید چیخ چیخ کر انہیں کہتی ہے کہ کم از کم مہمان کو تو چھوڑ دیں۔ باریش داڑھی والا فضل دین دونوں لڑکیوں کے اور قریب ہو جاتا ہے۔ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ کسی کشمکش میں ہے، چاہتے ہوئے بھی وہ ان لڑکیوں سے اپنی نظریں نہیں ہٹا پا رہا)۔ فضل دین: ننگے سر اور ننگی باہیں۔ (ایک جھٹکے سے سر کو جنبش دیتے ہوئے اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھتا ہے جو پہلے ہی لڑکیوں پر پڑیں اس کی نظریں دیکھ رہے ہیں)۔ ان کو بہت سخت سزا ملنی چاہیئے۔ بہت سخت۔ ایسی کہ یہ تمام عمر نہ بھول سکیں۔ (پہلے آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے اپنے قریب بلاتا ہے)۔ ان کی سزا میں نے سوچ لی ہے اور اس سے بہتر ہو ہی نہیں سکتی۔ تم اس سے (ناہید کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) نکاح کر لو۔ اس طرح ہی یہ سدھرے گی۔ ایسا نکاح جائز ہے، شاید یہ نیکی کے رستے پر چل نکلے۔ (خود سے مخاطب ہوتے ہوئے) اور میں، میں اس کافر، کافر لڑکی کو مسلمان کرتا ہوں۔ (نورا کو بازو سےپکڑ کر گھسیٹتا ہے)۔ میں اسے مسلمان کرتا ہوں۔ اسے بھی ثواب ہو گا اور مجھے بھی۔ یہی ان کی سزا ہے، یہی ان کی سزا۔ (لڑکیوں کی التجاؤں کے درمیان پردہ گرتا ہے)۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||