میں ہمورابی، انصاف کا پیکر! | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کردار: 1۔ عراق کا مشہور بادشاہ ہمورابی 2۔ ہمورابی کا بیٹا 3۔ ہمورابی کی ملکہ 4۔ ہمورابی کا وزیر پردہ اٹھتا ہے۔ پہلا سین: ہمورابی (سخت پریشانی میں مبتلا): میں ہمورابی، عظیم عراق کا بادشاہ، عدل و انصاف اور دیانت داری کا منبع، یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ وزیر (بادشاہ کے قہر سے ڈرتا ہوا بادشاہ سے دو قدم دور ہوتے ہوئے): بادشاہ سلامت یہ چند لوگ ہیں اور یہ بھول گئے ہیں کہ اس سلطنت پر کس عظیم شخص کی بادشاہت ہے، کون ہے جو انصاف اور عدل پر مبنی فیصلے کرتا ہے۔ کون ہے جو سچ اور جھوٹ کا فرق بتاتا ہے، لوگوں کا حق دلاتا ہے۔ یہ چند لوگ ہیں حضور جن کی رنگت ہم سے مختلف ہے اور ہم میں سے نہیں ہیں۔ ہمورابی: (حیرانی سے) یہ کیا چاہتے ہیں؟ ہمورابی: (کسی گہری سوچ میں ڈوب کر) کیا ہم سے کوئی کمی رہ گئی ہے۔ کیا ہم نے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے۔ ہم نے تو نہ صرف انسان بلکہ چرند پرند کو بھی انصاف دیا۔ وزیر انہیں بتاؤ کہ میں نے تو بیل تک کو انصاف دینے کوشش کی۔ ذرا سناؤ وہ میرے قانون کی شق نمبر 241 جس کے تحت اگر کوئی شخص جبراً کسی بیل سے بھی مشقت لیتا ہے تو اسے بھی جرمانہ دینا پڑے گا۔ وزیر: حضور یہ لوگ یا تو آپ کو نہیں جانتے یا پھر یہ خود انصاف سے بیگانے ہیں۔ یہ کہتے ہیں یہاں انصاف نہیں ہوتا اس لیے کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے۔ ہمورابی: (اس آٹھ فٹ لمبے ستون کی طرف چل پڑتا جہاں اس کے سارے قانون 3600 سطروں میں درج ہیں اور وہ شق نمبر 3 کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے۔ کہ جھوٹ ہے، یہ بہتان ہے اور دیکھو ہم اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ وزیر: (بلند آواز اسے پڑھتا ہے) اگر کوئی جج کسی مقدمے میں اپنی غلطی کی وجہ سے غلط فیصلہ کرے تو اسے بیس گنا زیادہ جرمانہ دینا پڑے گا اور سزا کے طور پر اسے سرِ عام جج کے عہدے سے ہٹایا جائے گا اور وہ کبھی بھی پھر جج کی کرسی پر نہیں بیٹھ سکے گا۔ (ایک دھماکے کی آواز آتی ہے اور سب کانپ جاتے ہیں۔ کہیں دور ایک بچہ خون میں لپٹا کچھ دیر تک بھاگتا ہے اور پھر یکدم گر کر آخری سانس لیتا ہے)۔ ملکہ: (ایک چیخ بلند کرتی ہے)۔ ہمورابی یہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔ آپ نے دنیا کو عدل و انصاف دیا، حق دیا، انسان کو عزت دی اور یہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہی انسانوں کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں۔ یہ دیکھیں، یہ۔ یہاں چودھویں ستر میں اس کی سزا کیا ہے۔ ’اگر کسی نے کسی کے چھوٹے بچے کو مارا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا‘۔ ہمورابی: (بے بسی سے) میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میری سلطنت میں اتنی لاقانونیت ہو جائے گی۔ لوگ باہر سے ’ہماری سدھار‘ کے بہانے ہمارے گھر آ کر اس پر قبضہ کر لیں گے اور اس طرح ہمیں لوٹیں گے اور ہماری چیزیں تباہ کریں گے۔ ’اگر کسی کے گھر میں آگ لگتی ہے اور کوئی وہاں گھس کر چیزوں کو چرانے کا سوچتا ہے یا چرا لیتا ہے تو اسے اس آگ ہی میں جلا دینا چاہیئے‘۔ (شق نمبر 25 پر انگلی رکھے کھڑا ہے)۔
دوسرا سین ہمورابی: یہ مجمع کیوں اس عمارت میں گھس گیا ہے، دھکم پیل ہے۔ کیا آزادی اس کا نام ہے۔ یہ توڑ پھوڑ۔۔۔ کیا اس ملک میں باہر سے آنے والے سفید لوگوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ کس طرح ایک خوشحال ملک ایک کھنڈر بن گیا اور کس طرح دنیا کو قانون سکھانے والے لوگ لاقانونیت کا شکار ہوئے۔ ہمورابی کا بیٹا: حضور دل چھوٹا مت کیجیئے۔ انہیں حکومت کرنا نہیں آتا۔ آپ نے بھی 42 سال حکومت اور میں بھی تقریباً 38 سال حکومت کرتا رہا۔ ہم نے بڑی جنگیں لڑیں لیکن اس طرح کی لاقانونیت کبھی نہیں دیکھی۔ اپنوں کو اپنے مار رہے ہیں۔ کوئی بھائی، بہن، ماں، باپ، کسی کو بھی کسی کی کوئی فکر نہیں ہے۔ (ایک دم بادشاہ چیختا ہے) ہمورابی: ارے، ارے، ارے۔ یہ مجھے کوئی اٹھائے لیے جا رہا ہے۔ بھئی بھئی ذرا سنبھل کر۔ ارے مجھے کسی کونے میں رکھ دو۔ میں ٹوٹ جاؤں گا۔ کوئی تو شرم کرو، بادشاہ ہوں تمہارا۔ دیکھو، دیکھو آگے بھی کوئی میری بیش قیمت اشیاء چرا کر بھاگ رہا ہے۔ اُف میرا سر۔ کیا بدتمیزی ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ سر بچ گیا۔ ارے بھئی اب تو رکو، کس سے بھاگ رہے ہو۔ وہ دیکھو، وہ، وہ، وہ۔ اُف۔اتنی زور سے گرا دیا۔ آخر وہی ہوا نہ۔ دیکھو بیٹے میری تو ناک ہی کٹ گئی ہے۔ ہمورابی کا قانون۔ شق نمبر 22 اور 23 چیخ چیخ کر: میرا نقصان پورا کرو۔ میرا نقصان پورا کرو۔ (پردہ گرتا ہے) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||