پہلا ’خود کش بمبار‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں۔ کہانی ہے سیمسن اینڈ ڈیلائلہ کی۔ یاد ہے وہ لمبے بالوں والا سیمسن۔ سیمسن بڑی منتوں کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس کے پیدا ہونے سے پہلے ایک فرشتے نے اس کے والدین کو بتایا کہ تمہارے ہاں بیٹا تو ہو گا لیکن اس کی پرورش اس طرح کرنا ہو گی کہ وہ اپنی زندگی خدا کے لیے وقف کر دے۔ اس طرح وہ اپنے ملک کے لیے بڑے بڑے کام کرے گا۔ سیمسن کو نصرانی وعدے کا بھی پابند بنا دیا گیا کہ وہ نہ کبھی بال کٹوائے گا، مردہ جسم کو چھوے گا اور نہ ہی کبھی وائن کو منہ لگائے گا۔ سیمسن بڑا ہوا، جوانمردی میں نام کمایا اور اپنے دشمن فلسطینز (philistines ) کے خلاف کئی جنگیں لڑیں اور انہیں شکست دی۔ آخر ایک فلسطائن لڑکی ڈیلایلہ کی محبت میں گرفتار ہوا، اس کے بہت اصرار پر اسے اپنی طاقت کا راز بتایا کہ اس کی طاقت تو اس کے بالوں میں ہے۔ ڈیلایلہ کو فلسطینز نے پیسے کا لالچ دے رکھا تھا۔ ڈیلائلہ کی ذلفوں کے اسیر سیمسن کو جب نیند آ گئی تو ڈیلائلہ نے دشمنوں کو بلا کر اس کی ذلفیں ہی کٹوا دیں۔ سیمسن کی طاقت ختم ہوئی اور اسے فلسطینز نے قید کر لیا۔ اس کی آنکھیں نکلوا دیں گئیں اور اس طرح سیمسن بے بسی کی ایک تصویر بن گیا۔ ایک دن جب فلسطینز والے اپنے پیگن خدا ڈاگون کے مندر میں ایک مذہبی تہوار منانے کے لیے جمع ہوئے اور سیمسن کی گرفتاری کے لیے اپنے خدا کا شکریہ ادا کرنے لگے تو کسی نے کہا کہ سیمسن کو بھی یہاں پیش کیا جائے۔ سیمسن بدحالی کی تصویر بنا وہاں لایا گیا اور سب اس کا مذاق اڑانے لگے۔ سیمسن نے اپنے خدا سے معافی مانگی اور دعا کی کہ اے خدا مجھ کو وہ طاقت دے کہ میں اپنا بدلہ لے سکوں۔
جشن کے وقت مندر میں تین ہزار افراد جمع تھے۔ سیمسن پہلے بھی اس مندر میں آ چکا تھا اور اسے معلوم تھا کہ سارے کا سارا مندر دو مضبوط ستونوں پر کھڑا ہے۔ سیمسن نے ایک ملازم سے درخواست کی کہ اسے ستونوں کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ ان کا سہارا لے سکے۔ اسے ایسا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ سیمسن نے اپنےخدا کویاد کیااور کہا ’Let me die with the Philistines‘ ۔ اس کے بعد سیمسن نے دونوں ہاتھوں سے دونوں ستونوں کو اپنی پوری طاقت سے دھکا دیا۔ ایک دھماکے دار آواز کے ساتھ مندر کی چھت مندر میں موجود تین ہزار لوگوں کے اوپر آگری۔ اس وقت مندر میں سارے سیاسی، فوجی اور مذہبی رہنما موجود تھے۔ سب کے سب سیمسن کے ساتھ ہی مندر میں دب کر مر گئے۔ کہانی ختم۔ میں سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ اس خطے کی قسمت میں لکھا ہے کہ یہاں اس طرح لوگ مرتے رہیں، چاہے وہ سیمسن ہو یا فلسطینز۔ کیا سیمسن پہلا ’خودکش بمبار‘ تھا جو اپنے ساتھ تین ہزار دوسرے لوگوں کو لے کر مرا۔ کیا فلسطینی سیمسن ہیں یا فلسطینز۔ امریکہ میں گیارہ ستمبر کے حملوں پر بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ گیارہ ستمبر کا حملہ بھی خودکش بمباروں نے کیا تھا اور اس میں بھی تین ہزار کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے تھے اور زیادہ تر ہلاکتیں دو ٹاورز کے گرا دیے جانے کی وجہ سے ہوئی تھیں۔ سیمسن نے بھی دو ستون یا ٹاورز ہے گرائے تھے۔ کیا سیمسن کی کہانی بدلنی نہیں چاہیئے۔ اگر ڈیلائلہ سیمسن کے بال نہ کاٹتی تو کیا دنیا کچھ اور طرح کی ہوتی۔ ضروری تو نہیں کہ کتابوں میں لکھا ہوا سب کچھ ضرور سچ ہی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||