کشمیری بڑے خراب لوگ ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میر تقی میر نے کہا تھا جو اس زور سے میر روتا رہے گا لیکن جو میں نے دیکھا وہ یہ تھا کہ کشمیری روتے رہے اور ہمسائے سوتے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام نے اکیس، بائیس اور تیئس جون کو لائن آف کنٹرول کے آر پار کشمیر کے بچھڑے ہوئے خاندانوں میں پہلی مرتبہ ویڈیو فون کے ذریعے ملاقات کروائی۔ ویڈیو فون کانفرنس میں چھ خاندانوں نے آدھ آدھ گھنٹہ لائن آف کنٹرول کے پار اپنے بچھڑے ہوؤں سے بات کی اور ویڈیو فون پر ان کی تصاویر دیکھیں۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں دوسرے نیٹ استعمال کرنے والوں کی طرح میں نے بھی اسے اپنی چھوٹی سی سکرین کے سامنے بیٹھ کر دیکھا۔ اس میں کچھ نہیں تھا۔ بچھڑے ہوؤں نے کوئی نئی بات نہیں کی، کوئی فلسفیانہ، نظریاتی مسئلہ نہیں چھیڑا گیا بلکہ میں تو کہوں گا کوئی بات ہی نہیں ہوئی۔
بس ایک دوسرے کو دیکھ کر روتے رہے اور ایک دوسرے کا حال پوچھتے رہے۔ تم کیسے ہو، کیا حال ہے سے آگے بات ہی نہیں چلی یا اگر چلی بھی تو مجھ سے اس پر غور ہی نہیں ہو سکا۔ میں تو بس ان آنکھوں کو دیکھتا رہا جو ویڈیو فون کی چھوٹی سی سکرین پر کچھ تلاش کر رہی تھیں۔ بس ایک مضبوط پلاٹ کی طرح اس ’سائلنٹ‘ فلم نے مجھے اس ایک گھنٹے کے لیے جادو کی رسی سے باندھ دیا۔ اب آزاد ہوں لیکن رسی کا درد نہیں جاتا اور نشان میرے علاوہ کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ جب کانفرنس میں شریک ایک خاندان کی عابدہ مسعود نے اپنی ماں سے شکایت کی کہ میں آپ سے نہیں بولتی کیونکہ آپ آدھر آتی نہیں تو ایسا لگا کہ دنیا کا سارا درد اس شکایت میں ہے۔ اور رسی کچھ اور زور سے کھینچی جا رہی ہے۔
یا جب میاں محمد صدیق نے سری نگر میں اپنے رشتہ دار کو کہا کہ ’آپ کے ماموں کا سنا بہت افسوس ہوا۔‘ ادھر سے جواب ملا کہ ’آپ نے کب سنا؟‘ ’مجھے دبئی سے کال آئی تھی۔ شبیر نے دبئی سے کال کی تھی۔ جب وہ واقعہ ہوا تو شاہ صاحب کا فون اسی وقت آ گیا تھا۔‘ سنتے ہیں کہ سری نگر سے مظفر آباد لوگ سائیکل پر چلے جاتے تھے۔ اب موت کی خبر کی اطلاع کو بھی براستہ دبئی آنا پڑتا ہے۔ اب ویڈیو کانفرنس سے کوئی راستہ کھلے نہ کھلے مجھ جیسے ہزاروں میل دور بیٹھے لوگوں کی آنکھیں ضرور کھل گئی ہیں۔ کشمیری دنیا میں کوئی انوکھے لوگ نہیں ہیں جو اپنوں سے بچھڑے ہیں۔ کرۂ عرض پر کروڑوں دوسرے ہیں جو اسی درد سے گزرے ہیں اور گزر رہے ہیں۔ پوری دنیا میں ملازمت اور بہتر زندگی کے حصول کے لیے قانونی اور غیرقانونی طریقے سے سرحدیں پار کرنے والے بھی اسی مد میں آتے ہیں۔ اپنوں سے بچھڑنے اور دور رہنے کا غم انہیں بھی ہے۔ بس ان کےغم میں اور کشمیریوں کے غم میں صرف ایک فرق ہے۔ وہ یہ کہ اگر کوئی اور ملک چھوڑ کر جاتا ہے تو یہ اس کا اپنا فیصلہ ہے لیکن کشمیریوں کی مرضی تو کبھی کسی نے پوچھی ہی نہیں فیصلہ تو بعد میں آتا ہے۔ دوسرا اگر دریا کے پار رہ کر بھی اپنی ماں سے کوئی بیس سال نہ مل سکے اور اپنے باپ یا بھائی کے جنازے میں شریک نہ ہو سکے تو شاید اس کے دکھ کی گہرائی کا اندازہ وہ دریا بھی نہیں لگا سکتا جس کے دہانے وہ کھڑا ہے۔
قبرص کے درمیان بھی اسی طرح کی ایک لکیر کھینچی گئی تھی سنا ہے اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ لائن آف کنٹرول قدموں کو ضرور روک سکتی ہے جذباتوں کو نہیں۔ جذباتی۔ کشمیری خاندانوں کی اس مختصر سی ملاقات کے لیے شاید لفظ جذباتی سے بہتر کوئی تعریف نہ ہو۔ ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر رونے اور ملنے کی آرزو کا منظر بہت جذباتی منظر تھا۔ اچھا ہوتا کہ یہ ویڈیو کانفرنس نہ ہوتی اور نہ ہی میں اسے دیکھتا اور اسکے متعلق لکھتا۔ اچھا ہوتا کہ کشمیر کو ہمیشہ کی طرح ایک سیاسی مسئلہ ہی سمجھا جاتا انسانی نہیں۔ اس نے نہ صرف میری آنکھیں کھولیں بلکہ اشکوں سے بھی بھر دیں۔ کشمیری بڑے خراب لوگ ہیں۔ خود بھی روتے ہیں اور دوسروں کو بھی رلاتے ہیں۔ اور میرا دوست مصدق سانول کہتا کہ میرے بس میں ہو تو میں ساری دنیا کو رلا دوں۔ شاید وہ کشمیر کے متعلق زیادہ نہیں جانتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||