’ستمبر جا‘ اکیلا چھوڑ دے مجھ کو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے ساتھ کچھ ایسا ہو رہا ہے کہ میں برتھ ڈے یا یومِ پیدائش بھولتا جا رہا ہوں اور یومِ وفات یا ڈیتھ اینرورسریز مجھے یاد رہتی ہیں۔ یہ کچھ عمر کا تقاضا ہے یا ویسے ہی یہ کچھ بیماری ہے اس کا تعین کرنا ذرا مشکل ہے۔ ابھی کچھ دن پہلے میری بہن نے پاکستان سے فون کیا کہ فلاں ستمبر کو ’میری بیٹی عمل کی سالگرہ ہے فون کر لینا‘۔ میں نے فون کیا لیکن وہ بھی ایک دن لیٹ۔ میں اس کی سالگرہ اس مرتبہ بھی بھول گیا جس کا مجھے دکھ ہے۔ لیکن میں ستمبر کو نہیں بھولا۔ بھلا ستمبر کو کون بھول سکتا ہے۔ ستمبر کو دنیا میں وہ کچھ ہوا کہ اس کو بھولنے کے لیے دنیا کی ساری شراب بھی کافی نہیں ہے اور میں تو ذرا گزارے موافق ہی یہ کام کرتا ہوں۔ اور کیا ہمیں سالگرہ یا اینورسریز کی ضرورت ہے کہ وہ ہمیں سب کچھ یاد دلائے جو ہم کبھی بھی بھول نہیں سکتے۔ ستمبر کو گیارہ ستمبر ہوا جو کہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا ’دہشت گرد‘ واقعہ تھا۔ گیارہ ستمبر 2001 کو تقریباً تین ہزار لوگ اپنے ناکردہ گناہوں کی بھینٹ چڑھے اور ان کے خون پر ایسی سیاست شروع ہوئی کہ دو سال اور ہزاروں جانوں کے ضائع ہو جانے کے بعد بھی قائم و دائم ہے۔ انسان کے خون پر سیاست کو سلام۔ گیارہ ستمبر ہی کو شاید اس دہشت گرد کارروآئی کا آغاز بھی ہوا یا یوں کہیے کہ اسے جنم دیا گیا۔ گیارہ ستمبر 1922 کو عرب ممالک کی آہ و زاری اور غصے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے برطانوی حکومت نے فلسطین میں ایک مینڈیٹ کا اعلان کیا تھا۔ وہ اعلان 1917 میں ہونے والی بیلفور ڈیکلیریشن کی ایک کڑی تھا جس میں غزہ کے باہر کھڑی برطانوی فوج نے وعدہ کیا تھا کہ یورپ کے صہونیوں کو ایک یہودی گھر دیا جائے گا۔ اور وہ گھر دیا گیا مشرقِ وسطیٰ میں، یورپ میں نہیں۔ کیونکہ ہٹلر نے انہیں بہت دکھ پہنچایا تھا اس لیے ان کا بسیرا ہٹلر کی باقیات سے دور کرنا بہت ضروری تھا۔ اور یہ ’دانشمندی‘ کی بھی گئی۔ بھارت کی لکھاری اروندتی رائے لکھتی ہیں کہ اس ڈیکلیریشن کے دو سال بعد ہی برطانوی وزیرِ خارجہ لارڈ آرتھر جیمز بیلفور نے کہا تھا کہ: خس کم جہاں پاک۔۔۔ تم جیو یا مرو ہماری بلا سے۔ اور وہ بلا گیارہ ستمبر کو کنگ کانگ کی طرح امریکہ کے سب سے بلند ٹاوروں سے آ ٹکرائی۔ چند عربوں نے گیارہ ستمبر 1922 میں ہونے والی اس ذلت کا بدلہ اسی سال بعد گیارہ ستمبر 2001 کو لیا۔ ویسے تو اسی سال چیزوں کی بہتری کے انتظار کے لیے ایک بہت لمبا وقفہ ہے لیکن شاید گیارہ ستمبر 2001 کے حملہ آور تھک چکے تھے اس لیے انہوں نے یہ بزدلی یا سنگدلی کا راستہ اختیار کیا۔ یا شاید غم سہہ سہہ کر انسان بہت زیادہ سخت دل ہو جاتا ہے۔ اگر یہ فلسطینیوں پر صادق آتا ہے تو یہودیوں پر بھی اس کا اتنا ہی اطلاق ہوتا ہے۔ شاید دوش کسی کا نہیں وقت کا ہی ہے۔ لیکن وقت تو ہمیں ہمیشہ کچھ سکھانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ دو ستمبر 1945 ہی تو تھا جب جاپان نے لاکھوں جانیں گنوانے کے بعد غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈالے تھے۔ امریکی نیوکلیئر بم ’موٹا آدمی‘ اور ’چھوٹا بچا‘ اگست میں ہی ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے جا چکے تھے۔ لاکھوں افراد موت کی نیند سو چکے تھے اور امریکہ اور اتحادیوں کا کہنا تھا کہ جنگ روکنے کے لیے بم گرانا ضروری تھا۔ اگر اوسیٹیا کے سکول میں قابض چیچن باغی زندہ ہوتے اور یہی موقف اختیار کرتے کہ آزادی کے لیے بچوں کو یرغمال بنانا ضروری تھا تو بھی میں انہیں کبھی معاف نہ کرتا۔ دو ستمبر 1666 کو ہی لندن میں وہ آگ لگی کہ اس نے پورا لندن جلا ڈالا ۔ تین ستمبر 1939 میں برطانیہ اور فرانس نے جرمنی کے خلاف دوسری عالمی جنگ کا اعلان کیا جس میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئی۔ دو ستمبر کو ہی جرمن فوج کو جس نے روسی شہر سٹیلن گراڈ کا محاصرہ کیا رکھا تھا شکست ہوئی اور تین ستمبر تک روس کا وہاں قبضہ تھا۔ بیسلان کے سکول میں بھی روسی فوج تین ستمبر کو ’فاتح‘ کہلوا رہی تھی اور ’قابض افواج‘ کا بہت سے نہتے افراد کے ساتھ خاتمہ ہو چکا تھا۔ تین ستمبر 2004 کو بیسلان کے ایک سکول میں شدت پسندوں نے پندرہ سو کے قریب افراد کو یرغمال بنا لیا اور چیچن آزادی کا نعرہ بلند کیا۔ آخر وہ ہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ 330 کے قریب افراد ہلاک ہوئے جن میں سے زیادہ تعداد معصوم بچوں کی تھی۔ آّزادی زندہ باد۔ مجھے تو ایسا لگ رہا ہے کہ روسیوں نے شاید سٹیلن گراڈ کے محاصرے سے بھی کچھ نہیں سیکھا، کیونکہ اگر سیکھا ہوتا تو شاید بیسلان کے سکول کے معصوم بچے بچ جاتے۔ چار ستمبر 1940 کو برطانیہ کے لیے جنگ شروع ہوئی جس میں ہٹلر نے دھمکی دی کہ وہ میونخ میں برطانوی بمباری کا بدلہ لینے کے لیے برطانوی شہروں کو راکھ کے ڈھیر بنا دے گا۔
پانچ ستمبر کو عرب شدت پسندوں نے میونخ اولمپکس کے دوران نو اسرائیلی اتھلیٹوں کو یرغمال بنا لیا اور چھ ستمبر کو اس کا ڈراپ سین سب اتھلیٹوں کی موت پر ہوا۔ شدت پسندوں نے سب اتھلیٹوں کو ایک ہیلی کاپٹر میں بیٹھا کر اسے بموں سے اڑا دیا اور بعد میں اس پر گولیاں برسائیں۔ ایک مرتبہ پھر معصوم افراد جغرافیائی سیاست کی بھینٹ چڑھے۔ چھ ستمبر کو پاک بھارت جنگ ہوئی اور دونوں طرف سے بھاری جانی نقصان ہوا۔ بلند بانگ نعرے سنے گئے اور حقیقت کیا ہے اس سے لوگ ابھی تک بے بہرہ ہیں۔ دونوں ملک اپنے تئیں جنگ جیتے ہوئے ہیں۔ گیارہ ستمبر کو امریکہ کے خلاف چند افراد نے اعلانِ جنگ کیا اور پھر دنیا میں ’ہمارے ساتھ نہیں ہو تو دشمن کے ساتھ ہو‘ کی جنگ کی شروع ہو گئی۔ جنگ کے کئی پہلو نکلے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں: یہ جنگ امریکہ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف ہے۔ یہ جنگ اسامہ بند لادن کے القاعدہ نیٹ ورک کے خاتمے کے لیے ہے۔ یہ جنگ طالبان کے خلاف ہے۔ یہ جنگ افغان عورتوں کی آزادی کی جنگ ہے۔ (ارندتی رائے لکھتی ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ ساری کی ساری امریکی میرینز کسی فیمینسٹ مشن پر تھیں اور افغان عورتوں کو برقعے سے آزادی دلانے کے لیے یہ جنگ لڑ رہی تھیں‘۔ پھر یہ جنگ صدام حسین کے خلاف ہو جاتی ہے۔ صدام کے پاس وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، صدام اور القاعدہ کا ساتھ ہے اور صدام کو ہٹانے سے ہی عراق میں صحیح جمہوریت آئے گی۔ لاکھوں افراد ہلاک ہوتے ہیں اور یہ جنگی ڈرامہ ابھی تک جاری ہے۔ نہ اسامہ ملا نہ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار۔ جنگ میں لوگ بھی مرے اور سچ بھی اور دنوں ساتھ ساتھ ہی اجتماعی قبر میں دفن ہوئے۔ گیارہ ستمبر 1990 کو ہی جارج بش سینیئر نے کانگریس کے جوائنٹ سیشن سے خطاب کے دوران اعلان کیا کہ ان کی حکومت کا ارادہ عراق پر حملے کا ہے۔ یہ گیارہ ستمبر 1973 ہی تھا جب لاطینی امریکہ کے ملک چلی میں سی آئی اے کی مدد سے جنرل پینوشے نے ایک جمہوری صدر الاندے کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس وقت کے صدر نکسن کے قومی سلامتی کے مشیر اور نوبل انعام یافتہ ہنری کسنجر کا کہنا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہم کیوں کھڑے ہو کر ایک ملک کو اس کے شہریوں کی غیر ذمہ داری کی وجہ سے کمیونسٹ بنتا دیکھتے رہیں‘۔ ستمبر میں اور بھی بہت کچھ ہوا لیکن ابھی جگہ ذرا کم ہے۔ ستمبر میں بم بھی چلے اور انسانی بم بھی۔ کس طرح بم انسانی بم بنے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ رونا اس بات کا ہے کہ ہم جب بھی خود کش بم دھماکے میں مرنے والوں کا بتاتے ہیں تو خود کش بمباروں کو بھول جاتے ہیں۔ کیا کسی کو معلوم ہے کہ بیسلان میں کتنے افراد مرے۔ میں ان کے لیے کسی نرم گوشے کی بات نہیں کر رہا صرف گنتی کے تقاضے کی طرف اشارہ ہے۔ انسان انسان ہی چاہے اس کی موت کس طرح بھی آئے۔ ایسا ہو سکتا تھا کہ انسان بم نہ بنتے، ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ بم ہی نہ بنتے۔ لیکن اب بھی ایسا ممکن ہے کہ ہم اگر بموں کو نہیں تو انسانی بموں کو روک سکتے ہیں۔ ہمیں ذرا قومیت اور جھنڈے سے باہر نکلنا ہے۔ اس جھنڈے کا کیا فائدہ ہے جو پہلے انسانوں کے سر پر چڑھ جائے اور انہیں کچھ سوچنے سمجھنے نہ دے اور پھر ان کے جسموں پر کفن کے طور پر لپٹایا جائے۔ اس جھنڈے کا کوئی فائدہ نہیں۔ جھنڈا علامتی بھی ہو سکتا ہے، انسانی فتح کا بھی۔ یا شاید مجھے ارندتی رائے اور نوئم چومسکی کو زیادہ نہیں پڑھنا چاہیے۔ حقیقت سے پردہ بھی اٹھاتے ہیں اور حقیقت کے حصول کے لیے ہی طرح طرح کے خواب بھی دکھاتے ہیں۔ یا شاید وہ بھی ’بنیاد پرست مسلمان‘ ہیں۔ کسی بھی طرح کے جہاد کا سبق دیتے رہتے ہیں چاہے وہ لفظوں کے ذریعے ہیں کیوں نہ ہو۔ چند روز پہلے میں نے ایک نئے ناول کے متعلق پڑھا۔ اس کا ایک جملہ مجھے ازبر ہو گیا ہے۔ اور وہ یہ ہے: یعنی انسان بغیر پروں کے ایک پرندہ ہے اور پرندہ بغیر دکھوں کے ایک انسان۔ دعا تو یہی ہے کہ دکھوں بھی کو پر لگ جائیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||