خدا کے نام پر ’مجھے‘ نہ مارو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میں آج بہت دکھی ہوں۔ انتہائی رنجیدہ۔ بلکہ دکھ، افسوس، غصے اور ندامت نے مل کر میرا گلا دبا رکھا ہے جس سے سانس بھی لینا دشوار ہو رہا ہے۔ وجہ اس کی کوئی نئی نہیں ہے۔ شاید مجھ سے پہلے بھی لوگ اس طرح گھٹ گھٹ کر مرتے رہے ہوں گے۔ شاید ان میں سے کچھ زندہ بھی رہے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ان کی کیفیت بھی میری آجکل کی کیفیت سے مختلف نہیں ہو گی۔ دبتے ہوئے گلے کا کرب بھی ان کے ساتھ ہی رہا ہو گا اور ہر وقت انہیں ندامت، غصے اور دکھ کی موت کا احساس دلاتا رہا ہو گا۔ موت صرف روح کا جسم سے نکلنا نہیں ہے۔ موت ایک سکول میں تین سو کے قریب بچوں کے بم سے ہلاک ہونے کا ڈر بھی ہے اور اس طرح ہوتے ہوئے دیکھ کر چپ رہنا بھی ہے۔ موت غریب اور نہتے نیپالیوں کی مذہب کے نام پر ہلاکتوں پر شرمندگی بھی ہے اور موت ان دو پاکستانیوں سمیت دنیا میں دہشت گردی کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے افراد کی موت پر خاموش ندامت بھی ہے۔ موت بیچارگی ہے۔ جب عراق سے پیچھے کی طرف باندھے ہوئے ہاتھوں والی کوئی لاش ملتی ہے تو وہ کسی کی نہیں ہوتی ہم سب کی ہوتی ہے۔ ان کی بھی جنہوں نے اسے مارا ہے۔ سب کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ آخر ان بیچاروں نے ایسا کیا کیا تھا کہ ایسی ہولناک موت ان کے حصے میں آئی۔ ویسے تو موت کبھی بھی خوش کن نہیں ہوتی لیکن طبعی موت مرنے اور کسی اور کے جرم یا جرم کے الزام میں بے وجہ مارے جانے کا عمل اس میں مزید کرب پیدا کر دیتا ہے اور ہولناک بنا دیتا ہے۔ میں بش، بلیئر، مشرف، صدام یا اسامہ کو نہیں جانتا اور نہ ہی انہیں جاننا چاہتا ہوں۔ میں جانتا ہوں تو ان بے قصور لوگوں کو جو ان کی ’دانشمندانہ‘ جنگ کی نظر ہوئے۔ میں جانتا ہوں اس بدقسمت ماں کو جس کے بیٹے کا سر ویب سائٹوں پر کٹتے ہوئے دکھایا گیا۔ کیا اسلام کے نام پر نہتے افراد کے سر قلم کرنے والوں کو اسلام کی ’خدمت‘ کے لیے اس سے بہتر کوئی اور طریقہ نہیں ملا۔ یا عراق اور پوری دنیا میں ’حقیقی جمہوریت‘ لانے کے لیے بے چین بش اور بلیئر کی نظر میں انسانی جان کی کوئی قیمت ہی نہیں ہے۔ کیا جمہوریت کے لیے لاشیں بچھنا بہت ضروری ہے۔ اگر ہے بھی تو میں اسے نہیں مانتا۔ ہمیشہ ہی سے انسان آپس میں لڑتے رہے ہیں اور ہمیشہ ہی ایک دوسرے کو مارتے رہے ہیں۔ شاید آگے بھی اسی طرح ہی ہوتا رہے۔ لیکن میں کیا کروں، میرا تو اس فضا میں دم گھٹ رہا۔ کبھی میں روس کے سکول میں یرغمال بچے کی ماں بن جاتا ہوں اور کبھی عراق میں ہلاک کیے جانے والے پاکستانی نعیم کے بچے میرے اندر سمو جاتے ہیں۔ مجھ سے کوئی آ کر سوال نہیں کرتا پر میں کیا کروں مجھے لگتا ہے کہ میں نے ہر اک کو جواب دینا ہے۔ مجھے معاف کر دیں یا اس سزا کو اتنا طویل نہ کریں اور ایک دفعہ ہی یہ ’مسئلہ‘ حل کر لیں۔ روز روز مرنے سے ایک مرتبہ مرنا ہی بہتر ہے۔ میں نے کبھی ایک نظم پنجابی میں لکھی تھی۔ شاید اس وقت یہ نظم لکھنے کی وجہ کوئی اور تھی پر لگ رہا ہے آج اسے دوبارہ لکھے بغیر نہیں رہا جائے گا۔ عنوان ہے اس کا Deterioration یا انحطاط۔ ’اج کی ہویا عجب تماشہ خدا کا واسطہ ہے ان معصوم بچوں کو چھوڑ دیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||