BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 August, 2004, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کہانی ساری فلمی ہے

ہور
گزشتہ دنوں برطانیہ میں جنسی جرائم میں عمر قید کی سزا پانے والے ایک شخص آئیورتھ ہور کی سات ملین پاؤنڈ کی لاٹری اخبارات اور نجی بحث کا موضوع بنی رہی۔ بات ہی کچھ ایسی تھی۔ ایک مجرم جو کہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے ایک دن کے لیے پیرول پر باہر آتا ہے، لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدتا ہے اور وہ لگ بھی جاتی ہے۔

برطانیہ کے شہر لیڈز سے تعلق رکھنے والے باون سالہ ہور کی سزا ختم ہونے میں بہت تھوڑا عرصہ رہ گیا ہے۔ اس کے بعد اسے آزادی ہو گی کہ جہاں چاہے اپنے پیسے خرچے۔ گو کہ اخبارات میں اس کی لاٹری کے خلاف کافی غصہ نظر آیا، بہتوں نے یہ بھی کہا کہ اس طرح کے شخص کی لاٹری نکلنا افسوسناک بات ہے اور اسے کم از کم ان افراد کو بھی لاٹری میں سے حصہ دینا چاہیئے جو کہ اس کی درندگی کا شکار بنے۔ لیکن آخر کار ایک حکومتی بیان میں یہ تسلیم کیا گیا کہ کچھ نہیں ہو سکتا اور پیسے ہور کے ہی ہیں۔

ہور کی لاٹری کی کہانی بالکل ایک فلم کی طرح ہے اور شاید اس پر فلم بن بھی جائے۔

میں فلموں کا ایک بہت بڑا فین ہوں خصوصاً ہندی فلموں کا اور میرا ہمیشہ ان لوگوں سے اختلاف رہا ہے جو کہتے ہیں کہ فلمیں حقیقت سے دور ہوتی ہیں یا کم از کم یہ کہ فلم اور حقیقی دنیا دو الگ الگ چیزیں ہیں اور آپ فلم میں حقیقت نہیں بھر سکتے اور نہ ہی ان میں حقیقت ہوتی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ فلم میں ہر جگہ حقیقت ہوتی ہے، ہر سین میں ہر مکالمے میں۔ میں اسے ثابت کر سکتا ہوں۔

کچھ دیر کے لیے ذرا سوچیئے کہ پاکستان میں کیا ہو رہا ہے، دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور ہم تاریخ کی کس نہج سے گزر رہے ہیں اور اب ویڈیو سینٹر جائیں اور آنکھ بند کر کے کوئی بھی فلم اٹھا لیں۔

یاد رہے پاکستان کو ذہن میں رکھیے اور دنیا کے حالات کو۔ میں چند فلمی مکالمے یہاں تحریر کروں گا پر میں ان کی تشریح نہیں کروں گا آپ ان میں سے مطلب خود ہی نکالیے اور دیکھیے کہ یہ حقیقت سے کتنے دور یا کتنے قریب ہیں۔

نوٹ: یہ مکالمے یا ڈائیلاگ آپ کو ہر فلم میں مل سکتے ہیں۔

مکالمے:

چوبیس گھنٹے تک ہوش نہیں آیا تو۔۔۔

اب یہ ناٹک بند کرو۔

قانون پر سے میرا وشواس اٹھ چکا ہے۔

قانون، کون سا قانون۔ وہی جس نے میرے بیگناہ باپ کو پھانسی پر چڑھایا تھا۔

تم نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا۔

اب دوا کی نہیں دعا کی ضرورت ہے۔

باس مال پکڑا گیا۔

اگر ماضی کو ماضی نہ بنایا تو بڑی مشکل ہو جائے گی۔

یہ بارات واپس جائے گی۔

میری پگڑی آپ کے قدموں کے نیچے ہے۔

آپریشن کرنا ہو گا دو لاکھ روپے لگیں گے۔

یہاں تیری عزت بچانے والا کوئی نہیں آئے گا۔

اپنے آدمیوں سے کہہ دو بندوقیں پھینک دیں۔

مار مار اسے بیٹے اس نے تیرے دیوتا جیسے باپ کا خون کیا تھا۔

اس کی کوئی کمزوری تو ہو گی کوئی ماں یا بہن۔

بچے کو تو ہم نے بچا لیا پر ماں۔۔۔

اب سب کچھ اوپر والے کے ہاتھ میں ہے۔

اب تمہاری ماں ہمارے قبضے میں ہے۔

تو پیدا ہوتے ہی مر کیوں نہیں گیا۔

اب آپ خود ہی دیکھ لیں کہ پاکستان پر کونسے مکالمے فٹ آتے ہیں اور اور باقی دنیا پر کونسے۔مجھے تو یوں لگتا ہے کہ ہر ایک کا مطلب بالکل صاف ہے اور یہ آج کل کے حالات کی سو فیصد عکاسی کرتے ہیں۔ دل تو میرا چاہتا ہے کہ وہ وقت بھی آئے کہ میں بھی با آوازِ بلند کہوں ’ماں میں اب دیکھ سکتا ہوں‘۔

ڈرائیور گاڑی روکو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد