ناگالینڈ، آسام تشدد میں 56 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں ناگالینڈ اور آسام میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں 56 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ ناگا لینڈ میں کے ایک تجارتی مرکز دیماپور میں سنیچر کی صبح ہونے والے دو بم دھماکوں میں پولیس کے بقول کم از کم چھتیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں متعدد کی حالت نازک ہے۔ جب کہ اس واردات کے کچہ ہی گھنٹے بعد بوڈو قبائل کے افراد نے آسام کے دوبھری ضلع بازار میں اندھا دھند گولیاں برسا کر بیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ناگا لینڈ کے دھماکوں کے پیچھے بھی نیشنل ڈیموکرٹک فرنٹ آف بوڈو لینڈ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ دیماپور میں ایک دھماکہ ریلوے سٹیشن جبکہ دوسرا ایک بازار میں ہوا۔ موقع پر موجود لوگوں کا کہنا ہے دونوں دھماکے مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے چند ہی منٹوں کے وقفے میں ہوئے۔ ریلوے سٹیشن پر ہونے والا دھماکہ اس وقت ہوا جب وہاں لوگوں کا ایک بڑا ہجوم موجود تھا جبکہ دوسرا دھماکہ ہانگ کانگ نامی مارکیٹ میں ہوا جہاں ممنوعہ مصنوعات کھلے عام فروخت کی جاتی ہیں۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے امدای کارکن زخمیوں اور لاشوں کو ہسپتال پہنچانے میں مصروف رہے۔ ریلوے حکام کا کہنا تھا کہ مسخ شدہ متعدد لاشیں ریلوے سٹیشن میں پڑی ہیں۔ ناگالینڈ میں گزشتہ پچاس برس سے زائد عرصے سے باغیانہ کارروائیاں جاری ہیں لیکن انیس سو ستانوے کے بعد سے ریاست کا بڑا باغی گروہ ’نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (این ایس سی این)‘ حکومت سے مذاکرات میں مصروف ہے اور فریقین میں لڑائی بند ہو چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||