ماؤ اتحاد کا امکان، حکومت کی فکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے دو اہم ماؤ گروپ اپنا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے کلکتہ میں مذاکرات کررہے ہیں۔ پیپلز وار گروپ (پی ڈبلیو جی) اور ماؤ کمیونسٹ سنٹر (ایم سی سی) دونوں کئی ریاستوں میں سرگرم ہیں۔ دونوں کے درمیان یہ تین روزہ اجلاس بدھ سے شروع ہوا ہے۔ اس اجلاس میں بائیں بازو کی جماعتوں کے ایک سو پچاس دیگر ممبران بھی شریک ہیں۔ مندوبین کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں اپنے نظریاتی اختلافات دور کرنے کی کوشش کریں گی۔ تاہم دونوں کے رہنماؤں نے ابھی تک ہونے والی بات چیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ پی ڈبلیو جی کچھ ریاستوں میں حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم ایم سی سی اب بھی مسلح جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ ایک رکن کا کہنا تھا کہ گروپس کو احساس ہے کہ ان میں مسلسل مسلح جدوجہد کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ دونوں گروپ نیپال میں ماؤ باغیوں کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ اجلاس میں ایک سو پچاس اداروں کی نمائندگی ہے۔ پی ڈبلیو جی آندھرا پردیش، چھتیس گڑھ، جھار کھنڈ، اڑیسہ، مدھیہ پردیش اور بہار میں بہت با اثر جماعت ہے۔ جبکہ بہار میں دونوں گروپ ہی اہمیت رکھتےہیں۔ بھارت کی حکومت ان گروپوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے تشویش کا شکار ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||