امن مذاکرات ختم: ماؤ نواز باغی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں ماؤ باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ امن مذاکرات کا سلسلہ ختم کر رہے ہیں۔ باغیوں کے دو کمیونسٹ گروپوں دی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا اور جناشکتی نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے مذاکرات ختم کرنے کا فیصلہ پولیس کے ہاتھوں ان کے ارکان کی مبینہ ہلاکت کے باعث کیا ہے۔ ماؤ نواز باغیوں اور بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے حکام کے درمیان پہلے براہ راست مذاکرات ریاستی دارالحکومت حیدرآباد میں گزشتہ اکتوبر میں ہوئے تھے۔ ان پانچ روزہ مذاکرات میں فریقین جنگ بندی کے ایک وسیع سمجھوتہ پر پہنچ گئے تھے۔ ان دونوں گروپوں نے مل کر ایک نیا گروپ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی آئی ماؤ) کے نام سے تشکیل دیا تھا جس نے ان مذاکرات میں شرکت کی تھی۔ باغیوں کے ترجمان وروا راؤ نے اخبار نویسوں کو بتایا تھا کہ بے زمین کسانوں میں زمین کی تقسیم کا مسئلہ ان مذاکرات کے ایجنڈے پر سرِ فہرست ہے۔ باغیوں اور حکومت کی آٹھ رکنی کمیٹی کے علاوہ ان مذاکرات میں آٹھ مصالحت کار بھی شریک تھے جن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ، دانشور، اساتذہ اور اخبار کے مدیران شامل تھے۔ انہیں لوگوں کی کوششوں کی وجہ سے ریاست کے حکام اور باغی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار بھی ہوئے تھے۔ تاہم باغیوں نے پہلے ہی واضح کیاتھا کہ وہ اپنے ہتھیار نہیں پھنک رہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اس کمیونسٹ گروپ کی بنیاد انیس سو اسی میں ڈالی گئی تھی اور جب سے وہ آندھرا پردیش کے قبائلی علاقے، مہاراشٹر، اوریسہ، بہار اور چھتیس گڑ پر مشتمل ایک کمیونسٹ ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس مسلح جدوجہد میں چھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||