بہار انتخابات میں بھاگلپور اور گودھرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بہار میں اسمبلی انتخابات کی شروعات سے عین قبل بھاگلپور اور گودھرا کے معاملے موضوع بحث بن چکے ہیں۔ بھاگلپور میں پندرہ سال پہلے بد ترین ہندو مسلم فسادات کی وجہ سے ریاست میں کانگریس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور لالو پرساد اقتدار میں آئے تھے۔ بھاگلپور اس لیے سرخیوں لیے سرخیوں میں ہے کہ وہاں گودھرا کے بعد ہونے والے ہندو مسلم فسادات کی تصاویر کے پوسٹر چسپاں کیے گئے ہیں اور اس بات پر دائیں بازو کی ہندو جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سخت برہمی کا اظہار کر رہی ہے۔ بھاگلپور کے بعد ریاست کے دو اور شہروں جہان آباد اور اورنگ آباد جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں لگائے گئے ان پوسٹروں میں لالو کو اقلیتوں کا مسیحا بتایا گیا ہے اور فرقہ پرست قوتوں سے ہوشیار رہنے کو کہا گیا ہے۔ اس پوسٹر کی یہ لائن خاص طور پر قابل ذکر ہے جس کے الفاظ یوں ہیں : یہ پوسٹر ایک نا معلوم تنظیم انجمن اتحاد ملت بہار کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔ بھاگلپور کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مہر کمار نے اس پوسٹر کا ہندی ترجمہ کروا کر پڑھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بابت مقدمے کا حکم دے دیا گیا ہے اور ایسے کئی پوسٹروں کو ضبط بھی کر لیا گیا ہے۔ بی جے پی کی مرکزی قیادت اس سلسلے میں انتخابی کمیشن سے مل کر شکائت درج کرا چکی ہے۔ اور کمیشن کے حکم پر دو تنظیموں کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی جا چکی ہے۔ اس سلسلے میں لالو پرساد یادو کہتے ہیں کہ انہیں نہیں معلوم کہ یہ پوسٹر کس نے لگوائے لیکن آر جے ڈی اس معاملے کو در کنار کرنے والا نہیں۔ اس پوسٹر سے حکمراں جماعت آر جے ڈی کا کوئی تعلق ہو یا نہ ہو گودھرا کے یہ پوسٹر جس شہر سے سرخیوں میں آئے وہاں فسادات کے سلسلے میں جنتا دل یونائیٹڈ اور رام ولاس پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی نے لالو پرساد کو نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ رام ولاس پاسوان کہتے ہیں کہ لالو کو شائد یہ پتہ نہ ہو کہ گودھرا کس سمت ہے مگر وہ یہ تو بتائیں کہ بھاگلپور کے فسادات کے بارے میں کمیشن نے جو رپورٹ دی ہے اس پر کیا کارروائی ہوئی ہے۔ اسی طرح نتیش کمار پوچھتے ہیں کہ بھاگلپور کی رپورٹ کو منظر عام پر کیوں نہیں لایا جا رہا۔ بھاگلپور کے معاملے کے بارے میں مقامی اردو اخباروں میں بھی بحث چھڑی ہوئی ہے۔ ایک مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بھاگلپور کی رپورٹ 1995 میں ہی اسمبلی میں پیش کی جا چکی ہے۔ دوسری جانب ایک اشتہار میں یہ پوچھا گیا ہے کہ بھاگلپور کی رپورٹ پر کوئی اے ٹی آر یعنی ’ایکشن ٹیکن رپورٹ‘ منظرعام پر کیوں نہیں آئی۔ بھاگلپور پر ان اعتراضات کا جواب لالو کو اپنی انتخابی تقاریر میں دینا پڑ رہا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ گجرات میں مسلمانوں کو جلوانے والے ان سے سوال نہیں پوچھ سکتے۔ لالو پرساد کہتے ہیں کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ فسادزدگان کو معاوضہ نہیں ملا وہ جھوٹ بول رہے ہیں اور یہ کہ تیرہ لوگوں کو اس سلسلےمیں عمر قید کی سزا ہو چکی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||