ِبہار کا باہمت پنٹو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ا کثر منفی خبروں کی وجہ سے سرخیوں میں رہنے والی ریاست بہار کے لۓ پنٹو مشعل راہ بن سکتا ہے۔ پنٹو کلکٹر بننا چاہتا ہے لیکن وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے لاچار ہے۔ پنٹو نے ہاتھوں کی لاچاری کو اپنے پیروں سے دور کیا ہے اور اسی ماہ اس نے آٹھویں درجہ کا سالانہ امتحان دیا ہے۔ اس طالب علم کا پورا نام پنٹو کمار پاسوان ہے۔ نام سے ہی ظاہر ہے کہ اسکا تعلق نچلی ذات سے ہے لیکن اسکے حوصلے کافی بلند ہیں۔ اسکے دونوں ہاتھ پیدائشی طور پر سوکھے ہوئے ہیں۔ پنٹو نے لکھنے کی مشق سلیٹ سے شروع کی اور آج وہ باآسانی اپنے داہنے پیر کے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان قلم پکڑ کر ہندی اور انگریزی لکھ لیتا ہے۔ وہ مشہور سیاحتی شہر راجگیر سے متصل ایک گاؤں کا رہنے والا ہے۔ اسکے والد شری جوگی پاسوان کلکتہ میں نوکری کرتے ہیں۔ پنٹو راجگیر کے ویویک آنند مڈل سکول کا طالب علم ہے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر آنندی پرساد اس طالب علم سے کافی متاثر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس لڑکے کی تحریر اور لکھنے کی رفتار دونوں عام طالب علموں جیسی ہیں۔ پنٹو اپنے پیر سے ہی برش پکڑتا ہے اور پیر سے ہی چمچ پکڑ کر کھانا کھا لیتا ہے۔ پیر سے گلاس پکڑ کر پانی پینے میں بھی اسے کوئی دقت پیش نہیں آتی۔ وہ ٹی وی سیریلز دیکھتا ہے۔ اسے کرکٹ میچ بھی بہت پسند ہیں۔ سچن تندولکر اسکے پسندیدہ کھلاڑی ہیں۔ دل تو اسکا بھی کھیلنے کو چاہتا ہے مگر۔۔۔
پنٹو کہ کہنا ہے کہ وہ سائنس کا طالب علم بننا چاہتا ہے۔ اسکے والد کہتے ہیں کہ وہ جہاں تک پڑھنا چاہےگا وہ اسے پڑھائیں گے۔ اسے اپنے دونوں بھائیوں اور اپنی ماں سے بھی خوب مدد ملتی ہے۔ پنٹو کو اسکے گاؤں والے یا سکول کے ساتھی کبھی تنگ نہیں کرتے۔ البتّہ حیرت بھری نگاہ سے اسکے پیروں کا کمال ضرور دیکھتے ہیں۔ پنٹو کہ کہنا تھا کہ اس کے والدین نے اسے بہت سے ڈاکڑوں کو دکھایا مگر سب نے یہی کہا کہ اس مرض کا علاج نہیں۔ آنندی پرساد کہتے ہیں کہ دنیا میں علاج ومعالجہ کی ایک سے ایک سہولتیں ایجاد ہو رہی ہیں۔ آلات بن رہے ہیں۔ ہم یہی تمنا کرتے ہیں کہ پنٹو کے لئے بھی کوئی راہ نکلے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||