بہار میں جلاد نہ ہونے کا بحران | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انسپکٹر جنرل پولیس بہار پرتاپ کمار نے تردید کی ہے کہ بہار میں قیدیوں کو پھانسی دینے کی تربیت دی جا رہی ہے۔ ان کی یہ تردید بہار میں جیلوں کے وزیر رگھوندرا پرتاپ سنگھ کے ایک بیان کے بعد جاری کی گئی ہے۔ رگھوندرا پرتاپ سنگھ نے کہا تھا کہ ان کی حکومت اس بات پر غور کر رہی ہے کہ قیدیوں کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد کے لیے پھانسی دینے کی تربیت دی جائے۔ اس وقت بہار میں پینسٹھ ایسے افراد ہیں جنہیں مختلف عدالتیں پھانسی کی سزائیں سنا چکی ہیں لیکن ان میں سے اکثر کی سزاؤں پر اس لیے عمل نہیں ہو سکا کہ بہار میں جلاد نہیں ہے۔ ان میں سے اکثر کی اپیلیں بھی اعلیٰ ترین عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ بھارت میں پھانسی کی سزاؤں پر کم ہی عمل کی نوبت آتی ہے اور بہت کم افراد کو پھانسی کی سزا دی جاتی ہے۔ گزشتہ گیارہ سال کے دوران صرف ایک مجرم کو دی جانے والی سزائے موت پر عمل ہو سکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||