BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 April, 2004, 15:03 GMT 20:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انتخاباتِ بہار کا ایک امیدوار

بہار
شہاب الدین جیل قرار دیے گئے اسپتال سے الیکش لڑ رہے ہیں اور ان قتل، بنک ڈکیتی اور اغوا کے تیس مقدمات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں
جرائم اور لاقانونیت کے لیے بھی بدنام بھارت کی ریاست بہار میں الیکشن لڑنا اور پولیس کے ہتھے نہ چڑھنا ایک ہنر تصور کیا جاتا ہے لیکن بہار کی پولیس بھی سیاستدانوں سے نمٹنے کے ہنر میں یکتا ہے۔

محمد شہاب الدین ہی کو لے لیں جو کانگریس پارٹی کی اتحادی اور برسرِ اقتدار راشٹریہ جنتا دل کے رکن اسمبلی ہیں اور جیل قرار دیے گئے ہسپتال سے گردآلود شہر سیوان سے اپنی نششت کا دفاع کر رہے ہیں۔

شہاب الدین گزشتہ آٹھ ماہ سے جیل میں ہیں اور اپنے خلاف مقدمہ شروع ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔

مقامی پولیس نے انہیں ایک مقامی حریف جماعت کے ایک کارکن کو اغواء کرنے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کارکن ہلاک ہو چکا ہے۔

شہاب الدین پر اس کے علاوہ قتل، بنک ڈکیتی اور اغواء کے تیس واقعات میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔

بھارتی قانون کے ایک ایسے ووٹر کو تو ووٹ ڈالنے کا حق نہیں دیتا جس کے خلاف کوئی مقدمہ زیرِ سماعت ہو تاہم سیاستدانوں کں یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ ایک نہیں متعدد مقدمات ہونے کے باوجود انتخاب لڑ سکتے ہیں اور منتخب ہو سکتے ہیں اور جس تک انہیں عدالت سے سزا نہ ہو جائے رکن اسمبلی ہونے کے تمام فوائد اٹھا سکتے ہیں۔

ایکشن کمیشن نے تمام امیدواروں کو ہدایت کی تھی کہ اگر ان کے خلاف کوئی مقدمہ یا مقدمات ہوں تو وہ اس کی تمام تفصیل فراہم کریں۔

بہار
انتخابی مہم کا ایک انداز

لیکن بہار جیسی ریاست میں ایسی باتوں کے کوئی معنی نہیں ہیں۔

اپنے حلقے میں لوگ شہاب الدین سے ڈرتے بھی ہیں اور ان کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ان کے حریف ان پر ریاستی انتظامیہ کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

ہسپتال جیل میں روزانہ سیکنڑوں لوگ شہاب الدین سے ملنے اور اپنے مسائل پر ان کا مشثورہ لینے کے لیے آتے ہیں۔ اور ان میں ایسے طالبِ علم بھی ہوتے ہیں جو میلوں سفر کر کے صرف یہ پوچھنے آتے ہیں کہ ان کے ہیڈ ماسٹر نے انہیں سالانہ امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا ہے تو اب انہیں کیا کرنا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد