بہار میں ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمالی ریاست بہار میں غیر معینہ مدت کے لیے جاری ڈاکٹروں کی ہڑتال جاری ہے اور منگل کو اس سلسلے میں احتجاجی ریلی بھی ہوئی۔ پٹنہ میں ہونے والی اس ریلی میں دو ہزار افراد نے شرکت کی۔ ڈاکٹر ونے اگروال نے بی بی سی کو بتایا کہ بہار میں ڈاکٹروں سے بھتہ وصولی اور تشدد کے واقعات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں اور یہ صورتِ حال اس قدر خراب ہوچکی تھی کہ ڈاکٹروں کو یہ قدم اٹھانا پڑا۔ گزشتہ روز بہار میں احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں اور حکومت کے درمیان ہڑتال ختم کرانے کے لیے ہونے والا اجلاس بھی ناکام ہوگیا تھا۔ اجلاس کی ناکامی کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ڈاکٹروں نے چیف سکریٹری کی یقین دہانیوں پر اعتبار کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹر بارہ نومبر کو ایک سینیئر سرجن کے قتل پر احتجاج کر رہے ہیں۔ اس ہڑتال میں پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوں میں کام کرنے والے لگ بھگ بیس ہزار ڈاکٹر شریک ہیں۔ ہڑتال سے ریاست میں مریضوں کی دیکھ بھال کا کام معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ فوری طبی امداد فراہم کرنے والے ڈاکٹر بھی ہڑتال میں شریک ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ہڑتال کے باعث انتہائی سنگین امراض کے شکار مریضوں کو بھی ڈاکٹروں نے دیکھنے سے انکار کیا ہے۔ ڈاکٹر اگروال کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں کو درپیش مسائل کی وجہ سے ایسا کرنا پڑ رہا ہے حالانکہ ڈاکٹر جانتے ہیں کہ ہڑتال سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ بہار کی میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر وجے شنکر سنگھ نے کہا ہے کہ جب تک حکومت ڈاکٹروں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی ہڑتال ختم ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان مطالبات میں قتل ہونے والے سرجن کے قاتلوں کی گرفتاری، اٹھارہ دن پہلے اغوا ہونے والے ڈاکٹر نگیندر پرساد کی رہائی اور بھتے کی وصولی کے لیے ڈاکٹروں کو کی جانے والے ٹیلی فون کالز کا خاتمہ شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||