اسیر سیاستداں: انتخابات کو چیلنج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مشرقی ریاست بہار میں ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ وہ جیلوں سے انتخابات میں حصہ لینے والوں کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے بارے میں سوچے۔ عدالت نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ جب جیل میں بند افراد کو بھارتی قانون کے مطابق انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں وہ کس طرح انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔ بہار میں کئی سیاستدان جیلوں سے انتخابات لڑ رہے ہیں۔ بہار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہاں بھارت میں سب سے زیادہ لاقانونیت ہے۔ ریاست میں اگلے بدھ ووٹنگ مکمل ہو رہی ہے اور 13 مئی کو قومی انتخابات کے نتائج بھی آ جائیں گے۔ بھارتی قانون کے مطابق جو لوگ اپنے مقدموں کا انتظار کر رہے ہیں وہ ووٹ نہیں ڈال سکتے لیکن جو جیل میں قید ہیں لیکن ابھی ان کو سزا نہیں ہوئی وہ انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن نے سب امیدواروں کو کہا ہے کہ وہ حلفیہ بیان دیں کہ ان پر کتنے مقدمات ہیں۔ لیکن بہار میں سماجی گروہ ’جان چوکیدار‘ نے پٹنہ کی عدالت میں ایک رٹ دائر کی ہے جس میں قیدی امیدواروں کی نااہلی کی درخواست کی گئی ہے۔ عدالت نے الیکشن کمیشن کو کہا ہے کہ وہ 13 مئی سے پہلے اس کا جواب دے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||