BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 February, 2005, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جھارکھنڈ انتخابی معرکہ زوروں پر

جھارکھنڈ
بی جے پی کے رہنما لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ ’ کیا جھارکھنڈ کو بہار بنانا ہے؟ ‘
جھارکنڈ میں حکمران اتحاد این ڈی اے میں شامل بی جے پی کے رہنما جھارکنڈ کے پہلے اسمبلی انتخابات کے جلسوں میں یہ ضرور پوچھتے ہیں کہ ’ کیا جھارکھنڈ کو بہار بنانا ہے؟ ‘

یہ بات الگ ہے کہ سیاسی مبصرین اور ایگزٹ پول کی پیشن گوئیاں وزیر اعلیٰ ارجن منڈا کی سرکار کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا رہی ہیں۔

جھارکھنڈ میں کانگریس علاقائی جماعت ’جھار کھنڈ مکتی مورچہ‘ کے رہنما شبو سورین کے ساتھ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے سخت جدو جہد میں مشغول ہے لیکن خود اس کے اتحاد کو بھی اندرونی چپقلش کا سامناہے۔

بہار سے علیحدگی کے بعد اس ریاست میں غربت، بجلی اور سڑک جیسے معاملے انتخابی موضوع تو نہیں ہیں لیکن لا قانونیت اور بدعنوانی جیسے سوالات حزب اختلاف کے لیے حکومت پر حملے کا ہتھیار بنے ہو ئے ہیں۔

جھارکھنڈ میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اپنی تقریروں میں ریاست کو چند دنوں میں اس ’ناکارہ‘ حکومت سے نجات دلانے کی بات کر رہی ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی آئندہ پانچ برس میں جھارکھنڈ کو ملک کی نمبر ایک ریاست بنانے کے وعدے کے ساتھ ووٹ مانگ رہی ہے۔

حکمران اتحاد گزشتہ سالوں میں کیے گۓ ترقیاتی کاموں کا حوالہ دیکر عوام سے ایک اور موقع دینے کی اپیل کر رہا ہے۔

اس انتخاب میں اصل مقابلہ تو بی جے پی، جنتا دل یونائٹیڈ کے اتحاد این ڈی اے اور کانگریس، جے ایم ایم اتحاد کے درمیان ہے لیکن میدان میں لالو پر ساد کی جماعت آر جے ڈی بھی سرگرم ہے۔

معدنیات اور کل کارخانوں کی دولت سے آراستہ اس ریاست میں اسمبلی کے 81 حلقےہیں اور حکومت بنانے کے لیے 42 نشستوں کی ضرورت ہوگی۔ یہاں آخری دور کی پولنگ 23 فروری کو ہے اور نتائج 27 فروری کو معلوم ہو سکیں گے۔

ریاست میں انتخابی تقاریر میں الزامات اور جوابی الزامات کے دور میں ایک بے حد اہم موضوع پس منظر میں چلا گیا ہے ۔ ریاست ماؤنواز نکسلیوں کی تحریک کی وجہ سے سخت مشکلات سے دو چار ہے۔ ریاست کے قیام کے بعد اعلیٰ اہلکاروں اور پولیس افسروں سمیت بڑی تعداد میں لوگ نکسلی تشدد کا شکار ہو چکے ہیں۔

ریاست میں مقامی اور باہری باشندوں کا مسئلہ بھی بحث کا موضوع بنا تھا۔ بی جے پی کو اپنی ’ڈومیسائل پالیسی‘ کی وجہ سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن انتخابی جلسوں میں اس کے ذکر سے سبھی جماعتیں دامن بچا رہی ہے۔

بی جے پی کے رہنما بہار کے حالات کا حوالا دیکر یہ تو کہہ رہے ہیں کہ اگر جھارکھنڈ کو بہار نہیں بنانا ہے تو انہیں ووٹ دیں لیکن وہاں حکومت سازی میں بہار بھی اپنا رول ادا کر سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کا اندازہ ہے کہ ریاست میں سرکار بنانے کے لیے بے چین کانگریس کو چار،پانچ سیٹ کی بھی ضرورت ہوئی تو لالو کی پارٹی کی اہمیت بادشاہ گر کی ہو جائے گی۔

سیاسی مبصرین اس بات کو بھی خارج از امکان نہیں سمجھتے کہ لالو جھارکنڈ میں حاصل ہونے والی نششتوں کے دم پر بہار میں اپنی حکومت بچانے کے لیے کوشش کر سکتے ہیں۔

کانگریس کے لیے جھارکھنڈ میں حکومت بنانا اس لیے بھی اہم ہے کہ بہار کی نسبت یہاں کی معیشت کافی مضبوط ہے اور اس کا فائدہ اسے قومی سیاست میں ہوگا۔

کانگریس اقتدار میں آکر بی جے پی کو قومی سیاست میں پیچھے دھکیلنے کی کوشش میں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد