پپویادو کی تہاڑ جیل منتقلی کا حکم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بہار کی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ راجیش رنجن عرف پپو یادو کو پٹنہ کی بیور جیل سے ایک ہفتے کے اندر دلی کی تہاڑ جیل منتقل کرے۔ پپو یادو لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیمان ہیں اور وہ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے اجیت سرکار کے قتل کے الزام میں جیل میں ہیں۔ عدالت عظمی نے ان اطلاعات کا سختی سے نوٹس لیا ہے کہ مسٹر یادو قید کے باوجود پوری آزدی کے ساتھ گھوم پھر رہے تھے اور پٹنہ میڈیکل کالج میں انہیں ’فائیو اسٹار‘ سہولیات مہیا کی جارہی تھیں۔ عدالت عظمی نےا پنے حکم میں مزید کہا ہے کہ مسٹر یادو کے خلاف پٹنہ کی سیشن عدالت ميں یہ مقدمہ وڈیو کانفرنس کے ذریعے بدستور جاری رہے گا۔ جب عدالت میں مسٹر یادو کی ضرورت ہوگی تو انہیں تہاڑ جیل کے محافظوں کے پہرے میں سیشن عدالت میں پہنچا دیا جائے گا۔ عدالت نے جیل کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ قیدیوں کے سلسلے میں ضابطوں پر سختی سے عمل کریں اور کسی بھی قیدی کو خصوصی سہولیات نہ دی جائیں۔ پپویادو نے عدالتی حراست کے دوران ایک عوامی جلسے کو بھی خطاب کیا تھا۔ عدالت عظمی نے منتقلی کا حکم مقتول اجیت سرکار کے بھائی کلیان چندر سرکار کی درخواست پر دیا ہے۔ سرکار نے الزام عائد کیا تھا کہ یادو بیورجیل سے اپنے اثرو رسوخ کا استمال کر رہے ہیں، جیل حکام کو دھمکیاں دے رہے ہیں، جیل میں دربار لگا رہے ہیں اور اپنے خلاف شواہد کو تباہ کر رہے ہیں۔ کسی ملزم کی ایک جیل سے دوسری جیل منتقلی کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل لالو کی ہی پارٹی کے ایک دیگر رکن پارلمان شہاب الدین کو سیوان جیل سے پٹنہ کی بیور جیل منتقل کر دیا گيا تھا۔ شہاب الدین کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ انہیں جیل میں تمام سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور وہ جیل سے بھی اپنے روز مرہ کے کام انجام دے رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||