پاسوان لالو کے لیے ’لائف سیونگ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاسوان کے مداحوں کا نعرہ ہے ’گونجے دھرتی آسمان پاسوان پاسوان‘۔ بہار میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ان کا نام پٹنہ سے دلی تک گونج رہا ہے۔ وہ بھی اس وقت جبکہ ان کے پاس اسمبلی کی 243 سیٹوں میں محض 30 نششتیں ہیں۔ لالو پرساد انہیں ’ کنفیوژن ماسٹر‘ کہتے ہیں لیکن انکی پارٹی رابڑی دیوی کی سرکار بچانے کے لۓ مسٹر پاسوان کےسامنے دست بستہ ہے۔ رام ولاس پاسوان نے گجرات کے فسادات کے بعد سابقہ واجپئی حکومت پر فرقہ واریت کا الزام لگا کر استعفی دے دیا تھا۔ لیکن بی جے پی کے سینئر لیڈر توپھر مسٹر پاسوان کیا کریں گے ؟ یہ سوال اس وقت ریاست کے ذرائع ابلاغ میں گونج رہا ہے ۔ سیا سی مبصرین کی رائے یہ ہے کہ مسٹر پاسوان فی الحال اپنی اہمیت تسلیم کرانے میں مصروف ہیں۔ ان کے حامی شائد ایسے ہی موقعوں کے لئے ’اوپر آسمان نیچے پاسوان‘ کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ہندوستانی سیاست میں شرد پوار کا نام اس لئے مشہور ہے کیوں کہ انہوں نے جتنے الکشن لڑے کسی میں بھی انہیں ہار کا سامنا نہیں ہوا سوائے ایک میں ۔ ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ کے صدر کے الیکشن میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ رام ولاس پاسوان اپنے سیاسی کیریئر میں صرف 1984 میں اس وقت شکست سے دو چار ہوئے جب ملک میں اندرا گاندھی کے قتل کے بعد کانگریس کے لئے ہمدردی کی لہر چلی تھی۔ اسکے بعد انہیں سب سے بڑی شکست تب تسلیم کرنی پڑی جب لالو پرساد نے انہیں ریلوے وزیر نہیں بننے دیا۔ لالو اور رام ولاس گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں گانگریس کے شانہ بہ شانہ تھےلیکن ریل کی وزارت نے دونوں کی پٹری الگ کر دی۔ یہ معاملہ بہار کے دونوں رہنماؤں کے درمیان زبردست تلخی کا سبب بنا۔ اسمبلی انتخابات میں دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف خوب غبار نکالا۔ رام ولاس سے جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ وہ کچھ ہی دنوں قبل تک لالو کے ساتھ تھے اب کیوں الگ ہو گئے تو ان کا جواب بڑا دلچسپ ہوتاہے۔ وہ کہتے ہیں کے ’ایک سر کا زخم ہوتا ہے اور ایک پیر کا انہوں نے پہلے سر کا گھاؤ دور کیا اب پیر کے زخم کی باری ہے۔‘ بہار ملک کی بے حد بیمار ریاست مانی جاتی ہے اور لالو پرساد خود کو ریاست کا سب سے بڑا ’ڈاکٹر‘ بتا تے ہیں لیکن اسمبلی انتخابات نے خود انکی صحت بگاڑ دی ہے۔ ایسے موقع پر رام ولاس پاسوان ان کے لئے ’لائف سیوینگ ڈرگ‘ کی مانند ہو گئے ہیں۔ دلی میں کانگریس کے بڑے بڑے ڈاکٹر بھی شاید یہی نسخہ تجویز کریں لیکن سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ رام ولاس پاسوان اس نسخہ کو تسلیم کرتے ہیں یا نہیں؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||