BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 February, 2005, 10:53 GMT 15:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد، سری نگر بس 7 اپریل سے

News image
اس سروس سے لائن آف کنٹرول پار کشمیریوں کا دیرینہ مطالبہ پورا ہوگیا
پاکستان اور بھارت مظفرآباد سے سری نگر تک بس سروس شروع کرنے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ یہ بس سروس اس سال سات اپریل سے شروع کی جائے گی۔اس سفر کے لئےایک خصوصی سفری اجازت نامہ یا پرمٹ جاری کیا جائے گا جو سری نگر اور مظفر آباد میں قائم کئے گئے نامزد دفاتر سے دستیاب ہو گا۔

اس بات کا اعلان آج اسلام آباد میں بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ اور ان کے پاکستانی ہم منصب خورشید قصوری کے درمیان ہو نے والے باضابطہ مذاکرات کے بعد کیا گیا۔

اس بس سروس سےکشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب ان لاکھوں کشمیریوں کو اپنے ان بچھڑے ہوئے رشتہ داروں سے ملنے کا موقع ملے گا جو 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے وقت پاکستان یا ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں رہ گئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باعث ایک دوسرے سے نہیں مل سکتے تھے۔

بس سروس شروع کرنے کا اعلان ایک مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے یہ اعلامیہ دفتر خارجہ میں اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کیا۔

تاہم دونوں وزرائے خارجہ نے اس اعلان کے بعد الگ الگ اعلامیہ بھی جاری کیے۔

بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے اپنے اعلامیے سے پہلے کہاکہ وہ پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف اوروزیر اعظم شوکت عزیز سے ملے ہیں اور انہیں بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کی طرف سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا ہے۔جبکہ پاکستان کے رہنماؤوں کی طرف سے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کو جلد پاکستان دورے کی دعوت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کسی بھی بھارتی وزیر خارجہ کا 1989 کے بعد پاکستان کا پہلا باضابطہ دورہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ایسے وقت میں پاکستان آئے ہیں جب دونوں ممالک کے تعلقات میں خاصی اہم اورمثبت پیشرفت ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں جاری مذاکرات اس عمل کو مزید آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ آج کے مذاکرات میں دونوں جانب سے کئی اہم اقدام اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں امرتسر سے لاہور تک بس سروس شروع کرنے،ایران سے پاکستان کے راستے بھارت تک جانے والی گیس پائپ لائن، فروری سے جولائی کے درمیان میزائل ٹیسٹ کے بارے میں ایک دوسری کو پیشگی اطلاع سمیت کئی معاہدے کو حتمی شکل دی جائے گی اور بھارت کے کوسٹ گارڈ اور پاکستان کی میری ٹائم ایجنسی کے درمیان مفاہمتی یاداشت اور انسداد منشیات کے بارے میں ایک یاداشت پر دستخط کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے کئی معاہدوں پر بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے جن میں کسی بھی حادثاتی یا بغیر اجازت جوہری ہتھیاروں کے حملے کے خطرے، سیویلین قیدیوں اور ماہی گیروں کی رہائی اور ان کی جلد اپنے وطن واپسی،کھوکھراپار-مناباؤ ریلوے لنک کی اس سال اکتوبر تک بحالی، ممبئی اور کراچی میں قونصلیٹ کھولنے سمیت کئی دیگر معاملات شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شک نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان ابھی بھی کئ معاملات پر اختلافات ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے درمیان بھروسے کو بڑھائیں تو اس سے ان معاملات کا بھی حل سامنے آسکتا ہے۔

بھارتی وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ سب اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب جنوری 2004 میں دونوں ممالک کی طرف سے دہشتگردی کے بارے میں دی گئی یقین دہانیوں کا پاس کیا جائے۔

پاکستانی وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اپنے اعلامیے میں کہا کہ آج کے مزاکرات دوستانہ اور مثبت ماحول میں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سارک سربراہی اجلاس کوجلد دوبارہ بلانے پر اتفاق کیا۔

خورشید قصوری نے کہا کہ دونوں ممالک نے کشمیر پر بھی بات کی اور پاکستان نے بھارت پر زور دیا کہ اس مسئلے کے مستقل اورجلد حل کے لیے کوشش کی جائے جس میں کشمیریوں کی خواہشات کو مد نظر رکھا جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد ریلوے حکام کو کھوکھراپار مناباؤ ریل سروس شروع کرنے کے لیے جلد سے جلد انتظامات مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے سیاچن کے مسئلے پر بھی بات کی اور دونوں ممالک کے دفاعی سیکریٹری اس سلسلے میں مذاکرات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ سیاچن پر دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں طے پانے والے مفاہمت پر عمل کیا جائے۔

انہوں نے سویلین قیدیوں اور پکڑے جانے والے ماہی گیروں کے مسئلے کو انسانیت کا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی جلد رہائی کے اقدامات کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

خورشید قصوری نےایران پاکستان بھارت پائپ لائن کے مسئلے پر معاہدہ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ وہ اس سلسلے میں بھارتی موقف کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ بگھلیار اور کشن گنگا ڈیم پر سندھ طاس معاہدے کے تحت عملدرامد کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے اس گذشتہ ماہ سرکریک پر ہونے والے سروے کے بعد اس مسئلے کا جلد حل کرنے پر اتفاق کیا۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ دونوں ممالک نے مذاکرات کو مثبت جذبے کے ساتھ آگے بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان تمام حل طلب مسائل کا حل تلاش کرنے پر اتفاق کیا۔

ان اعلامیوں کے بعد وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ دونوں وزرائے خارجہ صحافیوں کے سوالات کے جواب نہیں دیں گے۔ اس پر صحافیوں نے احتجاج کیا مگر وزیر نے سوالات کے جوابات دینے سے معذرت کر لی۔

خفیہ مذاکرات
کشمیر پر ہونے والی پس پردہ کوششوں کی تاریخ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد