BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 December, 2004, 01:10 GMT 06:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کراس بارڈر دہشت گردی نہیں ہورہی‘

 مشرف اور بلیئر
پاکستان کے بارے میں مغربی دنیا میں پائے جانے والے ’منفی تصورات‘ کو زائل کرنے کے لیے استعمال کیا۔
جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کشمیر کا مسئلہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل ہوگا اور یہ حل پاکستان اور بھارت دونوں کو منظور ہوگا۔

پیر کی رات لندن کے ایک مقامی ہوٹل میں برطانیہ میں پاکستان کی ہائی کمشنر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کی طرف سے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کے اعزاز میں دیئے گئے عشایے سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے اعتماد کی بحالی کے اقدامات بھی کر رہا ہے اور مذاکرات کے عمل کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم کشمیر کا باوقار حل چاہتے ہیں۔ ایسا حل جو کشمیریوں کو قبول ہو اورمساوی خود مختاری کی بنیاد پر ہو۔ اور ایسے حل کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت جاری رکھنا بہت اہم ہے۔‘

اپنے خطاب میں پاکستان کے صدر نے یہ بھی کہا اب اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ ’کراس بارڈر دہشت گردی‘ ہو رہی ہے تو یہ محض الزام ہوگا ’اور میں ایسا الزام دینے والے کو یہ کہوں گا کہ کشمیر میں حقوقِ انسانی کی صورتِ حال بہتر بنائیں۔‘

جنرل مشرف نے پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں سے خطاب کو بنیادی طور پر پاکستان کے بارے میں مغربی دنیا میں پائے جانے والے ’منفی تصورات‘ کو زائل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

انہوں نے بالخصوص مغربی دنیا میں پاکستان کے بارے میں پائی جانے والی ’چار غلط فہمیوں‘ کا حوالہ دیا اور کہا کہ لوگ کہتے ہیں افغانستان میں جو خرابیاں ہو رہی ہیں پاکستان کی وجہ سے ہیں، بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بدامنی کا ذمہ دار پاکستان ہے، جوہری پھیلاؤ میں پاکستان کا ہاتھ ہے اور پاکستانی معاشرہ مجموعی طور پر شدت پسند اور انتہا پسند ہے۔

پاکستان کے صدر کا کہنا تھا کہ یہ چاروں باتیں درست نہیں ہیں۔ پاکستان نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے اور سینکڑوں افراد پکڑے گئے ہیں۔ افغانستان سے جو لوگ پاکستان آئے تھے ان کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے اور صورتِ حال بہت بہتر ہے۔

اسی طرح انہوں نے کہا کہ پاکستان پر سرحد پار سے دراندازی اب ایک الزام تو ہو سکتا ہے حقیقت نہیں۔ جوہری پھیلاؤ کے الزام کا جواب دیتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ یہ ایک انفردی اقدام تھا جو بدقسمتی سے ایسے شخص نے کیا جس کا پاکستان کے جوہری طاقت بننے میں بہت بڑا ہاتھ تھا۔ البتہ انہوں نے یہ واضح کیا کہ عالمی جوہری ادارے کے کسی فرد کو پاکستان آ کر ڈاکٹر قدیر خان سے پوچ گچھ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ پاکستان اپنی جوہری تنصیبات کہ معائنے کی کسی کو اجازت دے گا۔

پاکستان میں شدت پسندی اور انتہا پسندی کے حوالے سے جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان کی اکثریت متعدل مسلمانوں پر مبنی ہے البتہ ایک حصہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہے جس کچلا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے فوجی کارروائی بھی کی گئی ہے اور دیگر حل بھی تلاش کیے جا رہے ہیں جن میں سے ایک نصاب کو اسلام کی اصل اقدار کے مطابق ڈھالنا ہے نہ کہ رسومات کے تذکرے سے بھرنا۔

انہوں نے کہا کہ مدرسوں کو طالب علموں کو سائنسی علوم سے بہرہ ور کرنا ہوگا۔ جنرل مشرف نے کہا کہ اگر مدرسوں میں صرف دینی تعلیم دی جائے گی تو وہاں کے فارغ التحصیل لوگ یا ’ہر پچاس گز پر مساجد کے خطیب بنیں گے یا پھر بچوں کو قرآن پڑھانے والے بن جائیں گے جو اس کام میں بھی گڑ بڑ کرتے ہیں۔‘

جنرل مشرف نے کہا کہ پاکستان کی سیاسی اور اقتصادی صورتِ حال بہت بہتر ہو گئی ہے۔ آئی ایم ایف کو قرضے کی قسط شکریے کے ساتھ واپس کر دی گئی ہے اور اب چیلنجوں کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کے مواقع سے بھی فائدہ اٹھانا ہوگا۔

اس سے قبل ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے برطانیہ میں مختلف شعبوں میں غیر معمولی کارکردگی دکھانے والے دس نوجوانوں کو جنرل پرویز مشرف سے متعارف کرایا۔انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے پاکستان کی سمت متعین نہیں تھی لیکن آج حالات اس کے بالکل برعکس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف ’پاکستان کی روح بچانے کی جنگ کی قیادت کر رہے ہیں اور پاکستانیوں کے سامنے محمد علی جناح کا پاکستان لا رہے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد