انڈیا پاکستان بس سروس پرمذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرینگر سے مظفر آباد تک بس سروس کی بحالی کے لئے دو روزہ پاک بھارت مذاکرات جمعرات کو شروع ہو رہے ہیں۔ مذاکرات کے لئے بھارتی وفد بدھ کی شام کو پاکستان پہنچ رہا رہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے قائم مقام ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ کنٹرول لائن پر چکوٹھی کے مقام سے بس چلانے پر بات ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد بھی سن انیس سو تریپن تک اس مقام سے لوگ پیدل آیا جایا کرتے تھے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ سن سینتالیس سے تریپن تک کس قسم کی سفری دستاویزات استعمال ہوتی تھیں تو انہوں نے بتایا کہ دونوں جانب کی کشمیر ریاستوں کے حکام راہداری جاری کرتے تھے۔ جیلانی کا کہنا تھا کہ پرانی سڑک تو موجود ہے لیکن اس کی مرمت کرنی پڑے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کے جنوبی صوبہ سندھ کے شہر کھوکھرا پار سے مُناباؤ تک بس سروس شروع کرنے کے لئے بھی گزشتہ ماہ کے آخر میں دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیاں مذاکرات ہوئے تھے تاہم کوئی واضع فیصلہ نہ ہو سکا تھا لیکن مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
پاکستان نے پیر پانچ اپریل کو جوہری اور میزائل پروگرام کے متعلق اعتماد کی بحالی کے اقدامات کے لئے مذاکرات کے سلسلے میں ماہرین کی طح پر پچیس مئی کی تاریخ تجویز کی تھی جس کا جواب ابھی تک بھارتی حکومت نے نہیں دیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||