BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 January, 2004, 04:00 GMT 09:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایل او سی بس سروس
بس سروس
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے سرینگر جانے والی سڑک کا نام آج بھی راولپنڈی سرینگر شاہراہ ہے

کشمیر بس سروس بحال کرنے کے لئے پاکستان نے بھارت سے مذاکرات کی دو تاریخیں تجویز کی ہیں۔ مذاکرات میں لائن آف کنٹرول کے ذریعے سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان بس سروس اور کھوکراپر اور مناباؤ کے درمیان ٹرین سروس شروع کرنے پر غور کیا جائے گا۔

اسلام آباد میں دفتر خارجہ کے ترجمان مسعود خان نے کہا ہے کہ دہلی کو جو تجویز بھیجی گئی ہے اس کے مطابق آٹھ اور نو مارچ کو دو روزہ مذاکرات کے ذریعے ریل سروس کی بحالی اور انتیس اور تیس مارچ کو کشمیر میں بس سروس کے آغاز کے امکان پر بات چیت ہوسکتی ہے۔

مسعود خان کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات محض تکنیکی نوعیت کے ہوں گے اور حتمی فیصلہ ماہرین کے مثبت جواب کی صورت میں بعد کےمراحل میں کیا جائے گا۔

پاکستان نے اس سے قبل یہ روایتی ریل اور بس سروس شروع کرنے سے متعلق مذاکرات کی بھارتی تجاویز قبول کرلی تھیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے سرینگر جانے والی سڑک کا نام آج بھی راولپنڈی سرینگر شاہراہ ہے حالانکہ گزشتہ پچاس سال سے یہاں سے کوئی بھی سرینگر نہیں گیا۔

ابتدائی طور پر لائن آف کنٹرول کے ذریعے بس سروس شروع کرنے کے بارے میں پاکستان کے کچھ تحفظات تھے۔ تاہم ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بس سروس کشمیر سے متعلق پاکستان کے موقف پر اثر انداز نہیں ہوگی۔

دریں اثناء مظفر آباد میں درجنوں افراد نے ہمالیہ کی دو تقسیم شدہ ریاستوں کے درمیان بس سروس کے حق میں مظاہرے کئے۔ یہ مظاہرے کشمیر کی آزادی کی حامی تنظیموں نے کروائے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد