BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 January, 2004, 12:37 GMT 17:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سمجھوتہ ایکسپریس روانگی کے لئے تیار

انجن

پاکستان اور بھارت کے درمیان دوسال کے تعطل کے بعد جمعرات سے ریل رابطہ بحال ہوجائے گا اور سمجھوتہ ایکسپریس چلنا شروع ہوجائے گی۔

ریلوے حکام کے مطابق اس مقصد کے لئےتمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس کو چلانے کے لئے لاہور ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک کی مرمت اور تزئین کی گئی ہے، جہاں سے یہ ریل گاڑی ہمییشہ چلتی آئی ہے۔ واہگہ ریلوے اسٹیشن کو بھی مرمت کیا گیا ہے اوراس کی آرائش کی گئی ہے۔

بھارت سمجھوتہ ایکسپریس بدھ کی رات روانہ ہوگی۔

دوسری طرف لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی بس سروس کے معاہدے میں بھی پانچ سال کے لئے توسیع کر دی گئی ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے مابین فروری انیس سو ننانوے میں اس سال سترہ فروری تک کے لیے ہوا تھا۔

اس بات کا اعلان بدھ کو دونوں ملکوں کے ٹرانسپورٹ حکام نے راولپنڈی میں دو روز کی بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا۔ اگلے ماہ دلی میں دونوں طرف کے حکام ایک بار پھر مذاکرات کریں گے جس میں اس معاہدہ پر دستخط کیے جائیں گے۔

اس ریل گاڑی میں سات سو مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جو ایک ہفتہ میں دو مرتبہ سوموار اور جمعرات کو چلا کرے گی۔

یہ ریل لاہور اسٹیشن سے صبح آٹھ بجے ہندوستان کے سرحدی اسٹیشن اٹاری کے لیے روانہ ہوا کرے گی جبکہ اسی روز سہ پہر اڑھائی بجے اٹاری سے لاہور کے لیے روانہ ہوا کرے گی۔

مسافر لاہور اسٹیشن سے ٹکٹ لے سکیں گے جبکہ سامان کی نقل وحمل کے لیے ریلوے ہیڈکوارٹر کے ایڈیشنل منیجر سے رابطہ کرنا پڑے گا۔

پاکستان ریلوے کے مطابق سیکنڈ کلاس کے مسافر پینتیس کلو گرام جبکہ فرسٹ کلاس کے مسافر پچاس کلوگرام وزن کا سامان ساتھ لے جاسکیں گے۔

دونوں طرف کے ریلوے حکام نے اپنے ملک کے ان آٹھ آٹھ ریلوے اسٹیشنوں کی فہرست بھی جاری کردی ہے جن کے لیے مسافر اپنے ملک سے ہی بکنگ کراسکیں گے اور سمجھوتہ ایکسپریس سے لاہور یا اٹاری پہنچ کر انھیں اپنی منزل کے لیے دوبارہ بکنگ نہیں کرانا پڑے گی۔

ان میں ہندوستان کے لیے امرتسر، الہ آباد، لکھنؤ، دہلی، کانپور، سہارنپور اور مراد آباد شامل ہیں۔ دوسری طرف پاکستان کے لاہور، کراچی کینٹ، کراچی سٹی، حیدرآباد، حسن ابدال، ننکانہ صاحب، راولپنڈی اور میرپور خاص شامل ہیں۔

سمجھوتہ ایکسپریس پاکستان اور ہندوستان میں رہنے والے منقسم خاندانوں کو ایک دوسرے سے ملانے کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے ذریعے عام استعمال کی تجارت بھی کافی بڑے پیمانے پر ہوتی ہے۔

لاہور میں انارکلی میں واقع پان گلی ہندوستانی سامان کا ایک بڑا مرکز مانی جاتی ہے جس کے دکانداروں کو اس وقت افغانستان کے راستے ہندوستانی مال منگوانا پڑ رہا ہے۔

پاکستان سے خشک میوہ جات ہندوستان جاتے ہیں اور ہندوستان سے پان، چھالیہ اور عورتوں کے ملبوسات پاکستان آتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد