BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 17 December, 2003, 07:19 GMT 12:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سمجھوتہ ٹرین کے لیے بات چیت

سمجھوتہ ایکسپریس
ٹرین کو دہلی تک چلانے پر بھی غور ہو گا

پاکستان اور بھارت کے درمیان سمجھوتہ ٹرین کی بحالی کے لئے پاکستان ریلوے کا ایک وفد بدھ کو واہگہ باڈر سے بھارت روانہ ہوگیا ہے۔ جبکہ ہوائی رابطے جلد ہی پی آئی اے کی لاہور سے دہلی پرواز کی صورت میں بحال ہوجائیں گے۔

پاکستان ریلوے کا ایک چار رکنی وفد ایڈیشنل جنرل منیجر ریلوے اقبال کھتری کی قیادت میں بھارت گیا ہے۔ اس وفد میں ریلوے کے انجینئرنگ اور اکاؤنٹس کے شعبوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

اقبال کھتری نے واہگہ باڈر پر اخبار نویسوں کو بتایا کہ دسمبر کے اختتام یا جنوری کے آغاز میں ریل سروس شروع ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ سمجھوتہ میں ایئر کنڈیشنڈ ڈبے بھی شامل کیے جانے کے لیے بات ہوگی۔

یہ وفد دہلی میں’ ریل بھؤن‘ میں دو روز تک اپنے ہم منصب بھارتی ریلوے حکام سے مذاکرات کرے گا اور سمجھوتہ ایکسپریس کی دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت کی بحالی اور دیگر معاملات طے کرے گا۔

پاکستانی حکام پہلے ہی یہ تجویز پیش کر چکے ہیں کہ سمجھوتہ ایکسپریس لاہور سے صرف اٹاری تک جانے کی بجائے بھارتی دارالحکومت دہلی تک چلائی جائے۔

وفد میں شامل چیف کمرشل منیجر پسنجر گلریز ہاشمی نے روانگی سے قبل بتایا کہ ’پاکستانی وفد بنیادی طور پر سمجھوتہ ایکسپریس کی بحالی کا ایک نکاتی ایجنڈا لیکر جا رہا ہے لیکن دیگر ضمنی معاملات بھی ضرور زیر بحث آئیں گے‘۔

ان ضمنی معاملات میں سامان اور مسافروں کے کرایہ کے نرخ طے کیا جانا بھی شامل ہے اور اگر بھارت نے دہلی تک ریلوے سروس کی بحالی کی حامی بھری تو پھر ابتدائی طور پر یہ بھی طے کیا جائے گا کہ پاکستان ریلوے ، بھارت کے کس کس شہر کے ریلوے ٹکٹ جاری کرے گی۔

پاکستانی ریلوے حکام کا کہنا ہے سمجھوتہ ایکسپریس کی تیس سالہ سروس میں اگرچہ چھ ماہ کےلیے عام طور بھارتی ریلوے حکام ٹرین کے ڈبے دیدیا کرتے تھے لیکن ان کو کھینچتا صرف پاکستانی انجن ہی تھا۔

پاکستان حکام اس دورے کے دوران اس بات کا بھی مطالبہ کریں گے اس بار جب دونوں ملک چھ چھ ماہ کے لیے اپنی اپنی ٹرین چلائیں گے تو اس بار ماضی کے برعکس ٹرین کے انجن بھی اپنے اپنے ہونگے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان بس سروس پہلے ہی بحال ہوچکی ہے جبکہ جمعرات کو فضائی رابطے بھی بحال ہو جانے کا امکان ہے جس کے ساتھ ہی دونوں ملک دیگر ممالک کے ہوائی سفر کے لیے ایک دوسرے کی فضائی حدود بھی استعمال کر سکیں گے۔

پاکستان انٹر نیشنل ائیرلائن کی پہلی پرواز جلد ہی لاہور سے دہلی روانہ ہو گی اور اس کے بعد ہر ہفتہ چھ پروازیں بھارت جایا کریں گی جن میں لاہور سے دہلی ، کراچی سے دہلی اور کراچی سے ممبئی کی پروازیں شامل ہیں۔

پی آئی اے اس کے ساتھ ہی مشرقِ بعید کے چار ممالک کے لیے اپنی براہ راست پروازیں شروع کر دے گی اور کھٹمنڈو، بنکاک، کولمبواور ڈھاکہ کے لیے براہ راست ہوائی سروس شروع ہوجائےگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد