مشرف کا کشمیر کے لیے ایک فارمولہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے استصواب رائے اور کنٹرول لائن کو مستقل سرحد بنائے جانے کو ناممکن قرار دیتے ہوئے حل کے لیے ایک نیا حل پیش کردیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر کو جغرافیائی، لسانی اور مذہبی بنیادوں پر سات حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو طے کرنا ہے کہ کونسے حصے دونوں ممالک کے پاس ہوں اور کونسے حصے کو خودمختاری دی جا سکتی ہے۔ تجویز کے مطابق خودمختار حصے کو اقوام متحدہ کے زیرانتظام کیا جا سکتا ہے یا پھر یہ دونوں ممالک کے مشترکہ کنٹرول میں بھی رہ سکتا ہے۔ پیر کے روز صحافیوں اور سفیروں کے اعزاز میں دیئے گئے افطار ڈنر سے حظاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے انہیں امید کی کرن نظر آرہی ہے اور انہیں لگتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہوسکتا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی تجویز کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دو حصے ہیں جو ان کے مطابق آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات پر مشتمل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے پانچ حصے ہیں جن میں وادی کشمیر بھی شامل ہے جو کہ خالصتاً کشمیری ہیں۔ دوسرا علاقہ جموں کا ہے جس کے دو حصے ہیں ایک مسلمانوں اور دوسرا ہندؤوں کا ہے۔ تیسرا لداخ، چوتھا دراز کارگل اور پانچواں لیہ کا حصہ بھارت کے زیرانتظام ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ بدھ مذہب والوں کا ہے جبکہ کارگل شیعہ مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ ان سات علاقوں میں سے بھارت اور پاکستان کو طے کرنا ہے کہ ان حصوں کی تقسیم مذہبی بنیاد پر ہونی چاہیے یا لسانی یا جغرافیائی بنیادوں پر۔ صدر نے بتایا کہ جب وہ نیویارک میں بھارت کے وزیراعظم منموہن سنگھ سے ملے تھے اس وقت انہوں نے ان سے کہا تھا کہ استصواب رائے اور کنٹرول لائن کو سرحد بنانے کی باتیں چھوڑیں اور دیگر تجاویز پر غور کریں۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نے ان سے تجاویز پیش کرنے کے لیے کہا تھا۔ صدر مشرف نے کہا کہ انہوں نے وزیراعظم منموہن سنگھ سے بھی تجاویز پیش کرنے کے لیے کہا تھا۔ صدر کے بقول دونوں ممالک مختلف امکانات پر کام کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تجاویز عوام کی رائے معلوم کرنے کے لیے بحث کی خاطر اب پیش کریں یا ان پر پیش رفت کے بعد۔ انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ ان کی رائے ہے کہ ابھی سے تجاویز بحث کے لیے عوام کے سامنے لانی چاہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور بھارت کے عوام اور کشمیری ان کی تجویز پر کھلے دل و دماغ سے غور کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||