پاک بھارت تعلقات میں پیش رفت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جرمنی کے وزیر خارجہ جوشکا فشر نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے حکام سے ملاقاتوں کے بعد انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں پپیش رفت ہورہی ہے اور امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس سلسلے میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف، وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین، سینئر وزیر شوکت عزیز اور وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری سے ملاقاتوں کے بعد اپنے پاکستانی ہم مرتبہ کے ساتھ ایک مشترکہ بریفنگ میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیاں تنازعات کا حل دونوں ممالک کے ہاتھ میں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ جرمنی دونوں ممالک میں جاری مذاکرات کے لیے مکمل تعاون فراہم کرنے پر تیار ہے۔ پاکستان کے تین روزہ دورے پر آئے ہوئے جرمن وزیر خارجہ کا یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے، ان کے وفد میں کئی صنعت کار اور تاجر بھی شامل ہیں۔ جرمن وزیر نے کہا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیاں طویل تنازعات کو سمجھتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ دونوں ملک مذاکرات کو نہ صرف جاری رکھیں گے بلکہ انہیں مثبت رفتار سے آگے بھی بڑھائیں گے۔ پاکستان کے ساتھ جرمنی کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں بہترین اور دیرینہ تعلقات ہیں اور وہ تمام معاملات میں تعاون کرتے ہیں۔ بھارت کے دورے کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں توسیع اور بھارت کو مستقل رکن بنانے کے بارے میں ان کے بیان کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کو فعال بنانے کے خواہاں ہیں اور ان کی کوششیں کسی ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ ان کے بقول پاکستانی حکام سے ملاقاتوں میں انہوں نے دوطرفہ امور بشمول افغانستان کی صورتحال، پاک بھارت مذاکرات، دہشت گردی اور سوڈان کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ہے۔ کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے بارے میں سوال پر جرمن وزیر نے کہا کہ ان کا ملک، یورپی یونین اور امریکہ سمیت عالمی برادری جنوبی ایشیا میں امن کے قیام اور مسائل کے حل کی کوششیں کر رہی ہے، کیونکہ ان کے بقول انہیں مسائل کی اہمیت اور حساس ہونے کی نوعیت کا اندازہ ہے۔
جرمن وزیر نے بتایا کہ رواں سال اکتوبر میں امکان ہے کہ جرمن چانسلر اس خطے کا دورہ کریں گے اور جرمن سرمایہ کاروں کا ایک وفد بھی ان کے ہمراہ ہوگا۔ اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے جرمنی کے تعاون بالخصوص اقتصادی تعاون کی تعریف کی اور بتایا کہ انہوں نے بھارت سے جاری مذاکرات کے متعلق بھی مہمان وزیر کو تفصیل سے آگاہ کیا ہے۔ ان کے بقول خطے میں یہ وقت امیدوں کا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرمنی نے سوڈان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں تعاون کے لیے کہا ہے اور انہوں نے ان کو یقین دلایا ہے کہ وہ اس ضمن میں ذاتی طور پر کوششں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو توقع ہے کہ افغانستان میں صدارتی انتخابات سے خطے میں امن اور سلامتی مزید مستحکم ہوگی۔ ان کے بقول افغانستان کے صدارتی انتخابات میں پاکستان کے مفادات وابستہ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس مقصد کے لیے پچاس لاکھ ڈالر کی امداد بھی دی گئی ہے۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کے ملک میں قائم کیمپوں میں انیس لاکھ افعان پناہ گزیں تھے اور پندرہ لاکھ ایسے ہیں جو ملک کے مختلف شہروں میں بس چکے ہیں، جن کے اندراج کے لیے حکومت طریقہ کار تیار کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||