مظفرآباد تاسری نگر بس سفردرخواستیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے مظفرآباد سے سرینگر تک سات اپریل کو شروع ہونے والی بس سروس سے سفر کرنے والے خواہشمندوں سے درخواستیں چودہ مارچ سے طلب کرلی ہیں۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سفر کے خواہشمند افراد حکومت کے مقرر کردہ درخواست فارم پر کرنا ہوگا۔ یہ درخواست فارم پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے تمام اضلاع کے ’ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر سے دستیاب ہوں گے۔ واضح رہے کہ بھارت پہلے ہی اپنے زیرانتظام کشمیر میں رہنے والوں سے ایسے ہی فارم پر درخواستیں لے رہا ہے اور ان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے مقررہ مدت یعنی سات اپریل کو پہلی بس سروس شروع ہونے کا افتتاح کرنے ا بھی اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے چلنے والی پہلی بس کا افتتاح صدر مملکت کریں گے یا وزیراعظم، اس بارے میں تاحال حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ مظفرآباد سے سرینگر کے درمیان 183 کلو میڑ تک کا فاصلہ ہے۔ ’سرینگر ـ راولپنڈی روڈ‘ کے نام سے جانی جانے والی یہ سڑک دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہوئی سرینگر پہنچتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں سے کوئی بھی گاڑی اس سڑک کے ذریعے سرینگر نہیں گئی۔ ان کے مطابق یہ سڑک کشمیر پر ہندو ڈوگرہ حکمرانی کے دور میں اٹھارویں صدی کے آخر میں تعمیر ہوئی تھی۔ سن سینتالیس میں پاکستان بننے کے بعد اسی سال ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر پہلی جنگ ہوئی اور اس وقت سے آج تک یہ سڑک بند ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||