BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 March, 2005, 16:00 GMT 21:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مظفرآباد تاسری نگر بس سفردرخواستیں

News image
اس سروس سے لائن آف کنٹرول کےآر پار کشمیریوں کی دیرینہ خواہش پوری ہو گی
پاکستان نے مظفرآباد سے سرینگر تک سات اپریل کو شروع ہونے والی بس سروس سے سفر کرنے والے خواہشمندوں سے درخواستیں چودہ مارچ سے طلب کرلی ہیں۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ سفر کے خواہشمند افراد حکومت کے مقرر کردہ درخواست فارم پر کرنا ہوگا۔

یہ درخواست فارم پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے تمام اضلاع کے ’ڈپٹی کمشنروں کے دفاتر سے دستیاب ہوں گے۔

واضح رہے کہ بھارت پہلے ہی اپنے زیرانتظام کشمیر میں رہنے والوں سے ایسے ہی فارم پر درخواستیں لے رہا ہے اور ان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے مقررہ مدت یعنی سات اپریل کو پہلی بس سروس شروع ہونے کا افتتاح کرنے ا بھی اعلان کیا ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر سے چلنے والی پہلی بس کا افتتاح صدر مملکت کریں گے یا وزیراعظم، اس بارے میں تاحال حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

مظفرآباد سے سرینگر کے درمیان 183 کلو میڑ تک کا فاصلہ ہے۔ ’سرینگر ـ راولپنڈی روڈ‘ کے نام سے جانی جانے والی یہ سڑک دریائے جہلم کے ساتھ ساتھ پہاڑوں کے بیچوں بیچ گزرتی ہوئی سرینگر پہنچتی ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ پچاس برسوں سے کوئی بھی گاڑی اس سڑک کے ذریعے سرینگر نہیں گئی۔

ان کے مطابق یہ سڑک کشمیر پر ہندو ڈوگرہ حکمرانی کے دور میں اٹھارویں صدی کے آخر میں تعمیر ہوئی تھی۔

سن سینتالیس میں پاکستان بننے کے بعد اسی سال ہی ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر پہلی جنگ ہوئی اور اس وقت سے آج تک یہ سڑک بند ہے۔

خفیہ مذاکرات
کشمیر پر ہونے والی پس پردہ کوششوں کی تاریخ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد