پھلوں کی برآمد کی اجازت کا مطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پھلوں کی تجارت کرنے والوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں اپنے پھل مظفر آباد برآمد کرنے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تاجروں کے ایک وفد کو مظفر آباد جانے کی اجازت دے جو وہاں پھلوں کی تجارت کے مواقع کا پتہ لگائے۔ سری نگر سے بی بی سی کے نمائندے الطاف حسین کے مطابق پھلوں کی پیداوار کرنے والی تنظیم کے صدر عرفان احمد نے سری نگر میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پھلوں کی منڈیوں کا جائزہ لینے کی اجازت دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس خطے کا استعمال مشرق وسطیٰ میں پھلوں کی برآمد کے راستے کے طور پر بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہلم کے ذریعے دونوں خطوں کے درمیان تجارت سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں متاثر نہیں ہونگی۔ یاد رہے کہ کشمیری علیحدگی پسند پہلے ہی کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان بس سروس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ عرفان احمد نے کہا کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کےتاجروں نے اس بس پر مظفر آباد سے آنے والوں کو پھلوں کی ٹوکریاں بطور تحفہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ وہ بھی کشمیری ہیں اور انہیں بھی معلوم ہونا چاہئے کہ ان کی زمین پر پیدا ہونے والا پھل کیسا ہوتا ہے۔ اس تحفے کا پیغام یہ ہوگا کہ ہم آپ کے ساتھ تجارت کرنا چاہتے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||