دلی میں پاک انڈیا پیپلز فورم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاک انڈیا پیپلز فورم کا اجلاس بھارت کے دارالحکومت دلی میں شروع ہوچکا ہے لیکن اس فورم کی صوبہ سرحد شاخ نے شکایت کی ہے کہ اس کے درجنوں کارکنوں کو ویزے جاری نہ کئے جانے سے وہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے ہیں۔ اگرچہ سماجی و سیاسی کارکن افراسیاب خٹک کی سربراہی میں صوبہ سرحد سے ساٹھ افراد کا ایک وفد دلی میں شروع ہونے والے پاک انڈیا پیپلز فورم کے اجلاس میں شریک ہے لیکن بڑی تعداد میں اساتذہ، طالب علم، صحافی اور تاجر بھارت کی جانب سے ویزے نہ ملنے کی وجہ سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کی وجہ پاک انڈیا فورم کی سرحد شاخ کے مطابق ناصرف فورم کی اپنی بدانتظامی کے علاوہ بھارتی حکومت بھی ہے۔ فورم کے صوبائی جنرل سیکٹری قیصر خان کا کہنا تھا کہ فورم کی پنجاب شاخ نے تو اپنے تمام کاکنوں کے ویزے لگوا دیے لیکن دیگر صوبوں کی شاخوں کو نظر انداز کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے عوام کی سطح پر رابطے استوار کرنے کے لیے پاک انڈیا پیپلز فورم کی بنیاد دس سال پہلے دلی میں ہی رکھی گئی تھی۔ اس سال اس اجلاس کے ایجنڈے پر کشمیر، دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے اور نصابی کتب میں نفرتیں ختم کرنے جیسے موضوعات پر قائم کمیٹیوں کی رپورٹوں پر غور کرنا ہے۔ البتہ بڑی تعداد میں سرحد سے شمولیت نہ ہونے سے اس فورم کی سرحد شاخ کو شدید ناراضگی ہوئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||