پاک بھارت پنجاب کی مہک ایک ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حال ہی میں پدم بھوشن کا خطاب حاصل کرنے والی فلمی شخصیت یش چوپڑہ اپنی فلم ویر زارہ کی وجہ سے خبروں میں تھے۔ ہندی آن لائن کی ہماری ساتھی سلمہ زیدی نے ممبئی کے اپنے حالیہ دورے میں ان کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت کی۔ اس انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کی فلم ویر زارہ کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف رائے ہے خود ان کا کیا کہنا ہے کیا وہ اس فلم سے مطمئین ہیں ؟ مسٹر چوپڑہ نے کہا انہیں بہت خوشی ہے کہ انہوں نے ایک ایسی فلم بنائی جو بھارت پاکستان کے تعلقات کے بارے میں ہے لیکن اس میں نہ تو کوئی سیاست ہے نہ فوج اور نہ ہی لڑائی کی کوئی بات یہ محبت کی کہانی ہے ۔اس فلم کے کردار بھی وہی ہیں جو ہمیں اپنے ارد گرد کی زندگی میں نظر آتے ہیں۔ یش چوپڑہ کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے ان کی فلم دھوم کو پسند کیا تھا شاید انہیں یہ فلم پسند نہ آئی ہو۔ یہ پوچھے جانے پر کہ ویر زارہ پاکستان میں تو رلیز نہیں ہوئی لیکن ویڈیو کے ذریعے وہاں بھی دیکھی گئی ہے تو کیا پاکستانی شائقین کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے آیا ہے یش چوپڑہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس فلم کو بیحد پسند کیا گیا ہے بہت سے لوگوں نے انہیں خط لکھے اور جو لوگ ان سے ملے ان کا یہی کہنا تھا کے اس فلم کا ہر منظر انہیں اپنے ارد گرد کا سا لگا۔
یش چوپڑہ کا کہنا تھا ’میں نے پنجاب کو بہت نزدیک سے دیکھا ہے چاہے وہ بھارت میں ہو یا پاکستان میں وہاں کی مٹی کی خوشبو ایک سی ہے وہاں کی پہچان زبان کچھ بھی تو فرق نہیں‘۔ یش چوپڑہ کی فلمیں اس زمرے میں آتی ہیں جس میں گھر کے تمام لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھ سکتے ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے اپنی فلموں میں فحاشی یا جسم کی نمائش سے ہمیشہ پرہیز کیا ہے جبکہ کچھ فلمساز اسے اس دور کی ضرورت بتاتے ہیں تو انہوں نے اس ضرورت کے آگے سر کیوں نہیں جھکایا؟ یش چوپڑہ کا کہنا تھاکہ ایک فلمساز کے کئی فرض ہوتےہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ خود کوئی فلم اپنی ہی ماں ، بہن یا بیٹی کے ساتھ دیکھ رہا ہو تو کوئی جھجک یا شرم محسوس نہ ہو۔ یہ پوچھے جانے پر کہ مغل آعظم جیسی فلم کو رنگین کرکے دوبارہ ریلیز کرنا کیا ایک نئے رجحان کا آغاز ہے اور کیا وہ اپنی پرانی فلموں کو اس طرح دوبارہ ریلیز کرنا چاہیں گے ۔ انہوں نے کہا ’ مغلِ آعظم کی بات اور ہے لیکن وہ اپنی بلیک اینڈ وہائٹ فلموں کو رنگین نہیں کرنا چاہیں گے کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنےسے فلم کی روح کہیں نہ کہیں دب جاتی ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||