سِرک ڈُو سولے کی طلسماتی دنیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈریلین اِس سرکس گروپ کا ایک ایسا شو ہے جس میں دنیا بھر کے فنکار زندگی میں مٹی ، ہوا، پانی اور آگ کاتجریدی تعلق ایک اچھوتے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ لندن کے رائل البرٹ ہال میں حال ہی میں دکھایا جانے والا ڈریلین نامی یہ شو سرک ڈو سولے کی اُن تخلیقات میں سے ایک ہے جنہوں نے 1984 سے آسٹریلیا سے امریکہ تک تماشائیوں میں مقبولیت کے نئے جھنڈے گاڑے ہیں۔ فرانسیسی زبان میں ’سرک ڈو سولے کا اردو ترجمہ سورج کا سرکس ہے ۔ ویسے تو کئی زاویوں سے اِس گروپ کی تخلیقات دوسرے ہم عصر تھیٹر سے منفرد ہیں لیکن کینیڈا کے فرانسیسی زبان بولنے والے صوبے کوبیک سے جنم لینے والا یہ سرکس بغیر کسی جانور کی مدد کے سرکس کے فن کو مستقبل میں لے جانے کا بلا شرکت غیرِ زمہ دار ہے۔
شو کے شروع میں جب مسخروں نے اپنا مسخرہ پن شروع کیا تو مجھ سمیت تمام تماشائی خاصے محضوظ ہوئے لیکن جب ایک مسخرے نے اگلی مہنگی نشستوں پر بیٹھے تماشائیوں کو اپنی حرکتوں میں شامل کرنا شروع کیا تو میرا نسبتاً سستی نشست پر بیٹھنے کا غم کچھ غلط ہوا اور اُس وقت تو اپنی غربت پر رشک آنا شروع ہوگیا جب مسخرے نے ایک تماشائی سے ایک کے بعد دوسرے بازو کو بلند کرنے کی فرمائش کی اور جب وہ بدنصیب تماشائی کھچاکھچ بھرے رائل البرٹ ہال میں ہینڈز اپ ہوگیا تو ایک دوسرا مسخرہ نہایت پھرتی سے بیچارے کی قمیض اتار کر لے بھاگا۔ مغربی دنیا میں جانوروں سے برے سلوک کی تو اجازت نہیں شاید تماشائیوں سے برے سلوک کی کوئی تنظیم تاحال وجود میں نہیں آئی۔ لہذٰا یہ سرکس تماشائیوں سے تاریخ میں انسانی تفننِ طبع میں جانوروں کے استعمال کا بدلہ لے رہا ہے۔ خیر اُس وقت جان میں جان آئی جب وہ قلابازیاں کھاتا تماشائی اِسی سرکس کا ایک بازی گر نکلا۔
اس شو کو دیکھنے کا تجربہ ایسا ہی ہے جیسے رات سونے سے پہلے کوئی جادوئی کہانی سنائی جارہی ہو فرق صرف اتنا کہ کہانی دادی امُاں کے بجائے ملٹی میڈیا کی مدد سے نہ صرف سنائی بلکہ دکھائی بھی جارہی ہے۔ ایک ایسی کہانی جس میں مسخرے تماشائیوں کو کہانی کا حصُہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتےاور جہاں اختراعی روائیتی چینی اژدھے اور شیروں کے لبادے اوڑھے بازی گر سٹیج پر بڑی بڑی چوبی گیندوں کو اپنے پیروں تلے لڑھکاتے اور بیک وقت اُن پر ناقابل یقین انداز میں قلابازیاں لگاتے چلے آرہے ہوں ۔
ڈرالین کے ہدایتکار، گائے کیرون کہتے ہیں ’ڈریلین مستقبل کی جہت میں ایک غیر معمولی سفر ہے ۔ ایک ایسی جگہ جہاں وقت کا تعین نہیں اور جہاں صرف جادوئی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے‘ اس منفرد شو میں تجریدی آرکٹیکچر، کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کی جانے والی لائیٹوں، نت نئے میٹیریل اور نہایت تخلیقی کاسٹیومز اور میک اپ کا بڑا دخل ہے۔اِن کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ اس سرکس کے مانٹریال، کینیڈا میں واقع بین الاقوامی ہیڈ کوارٹر میں مختلف شعبوں کے ماہرین نے کتنی باریک بینی اور تندہی سے اِس شو کے مختلف شعبوں کے لئے کام کیا ہوگا۔
سرک ڈو سولے کے سربراہ گائے لالی برتے کہتے ہیں ’اس شو کے لیے ہم نے دنیا کے طول و عرض میں ہر براعظم کے فنکاروں کے ساتھ وقت گزارا اور اس شو میں سرک ڈو سولے مشرق اور مغرب کے ماضی اور مستقبل کا ملاپ آپ کے سامنے پیش کرتا ہے‘۔ مانٹریال کے سینٹ مشیل ڈسٹرکٹ میں 32000 مربع میٹر پر محیط سرک ڈو سولے کے ہیڈکوارٹر کی عمارت میں ہر وہ ماہر اور سہولت موجود ہے جو اس گروپ کے پوری دنیا میں لگنے والے سرکسوں کی ہر ضرورت پوری کرنے کے اہل ہیں۔
ڈریلین کے ہدایت کار، گائے کیرون نے مزید بتایا’ اس شوکا مرکزی خیال مشرقی فلسفے سے اخذ کیا گیا ہے۔ جس میں انسان اورفطرت کے درمیان ایک مستقل دریافت اور تعلق کا عنصر پایا جاتا ہے۔اس شو میں فطری عناصر، جن میں مٹی، ہوا، پانی اور آگ شامل ہیں اپنے فطری رنگوں میں مختلف انسانی اشکال میں حکمرانی کرتے نظر آتے ہیں‘۔ سرک ڈو سولے کا تخلیقی سفر سرک ڈو سولے کا باقاعدہ وجود 1984 میں ہوا جب ژاک کارتیئر کے ہاتھوں کینیڈا کی دریافت کی 450 ویں سالگرہ کے موقع پر انکے شو کا منصوبہ کیوبک کینیڈا میں منظور کیا گیا۔ اس گروپ میں شامل کئی فنکار ابتدائی دنوں میں کینیڈا کے شہر کوبیک سٹی کے قریب ایک چھوٹے سے قصبے، بے ساں پول میں سڑکوں پر مختلف کرتبوں سے تماشائیوں کا دل بہلاتے تھے۔
1984 میں اِس گروپ کے لیے 73 افراد کام کرتے تھے۔ اِس وقت 700 فنکاروں سمیت تقریبا 3000 ملازمین اِس گروپ کے لیے دنیا کے مختلف شہروں میں کام کرتے ہیں جبکہ اِن کے ہیڈ کوارٹر، مانٹریال، کینیڈا میں 1600 افراد کام کرتے ہیں۔ ملازمین اور فنکار40 ممالک سے تعلق رکھتے ہیں اور 25 مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ 1984 سے اب تک اس سرکس نے دنیا کے 100 شہروں میں 250 مرتبہ تقریبا 42 ملین تماشائیوں کو اپنے فن سے محظوظ کیا ہے۔ گزشتہ سال سرک ڈو سولے نے اپنی بیسویں سالگرہ کے موقع پر ایک کتاب شائع کی ہے جس کا عنوان ہے ’سورج کے نیچے بیس سال‘ اس کتاب میں گروپ کی کامیابی کے دلچسپ سفر کا احوال ہے۔ اِس موقع پر انہوں نے ایک نیا ’گینس عالمی ریکارڈ‘ بھی قائم کیا۔ یہ ریکارڈ اُنہوں نے ایک وقت میں ایک جگہ سب سے زیادہ لکڑی کے کھمبوں پر چلنے والے بازیگروں کو جمع کرکے قائم کیا۔
ایک ایسے دور میں جب ثقافتی سرحدیں مٹتی جارہی ہیں۔ ڈریلین تہذیبی پہچان کو ایک تخلیقی انداز میں اجاگر کرتا ہے۔ چین سے لے کر کینیڈا تک کے فن کار اور موسیقی، کوسٹیومز، میک اپ اور کرداروں میں دنیا کے ہر براعظم کی ثقافتی جھلک ڈریلین کو ایک ایسا مکمل بین الاقوامی شو بناتی ہے، جہاں اگر کوئی تماشائی اِس میں شامل کسی تہذیب سے تعلق نہ رکھنے کے باوجود بھی کسی نہ کسی ثقافتی اثر سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہتا۔
ڈریلین میں وہ سب کچھ ہے جو ہم سب کے اندر چھپا معصوم بچہ ہمیشہ تمنا کرتا رہتا ہے۔ جبکہ ہم ِاس بالغ دنیا کے جھمیلوں میں پھنسے اپنےاندر کے اِس بچے کو نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔ یہ شو آپ کو ایک ایسی جگہ لے جاتا ہے جہاں نہ تو وقت کا کوئی تصور ہے اور نہ ہی کوئی غم اور فکر اور نہ ہی وہ اکتادینے والی کشش ثقل جو ہم سب کو زمین سے باندھ کر رکھتی ہے جبکہ ہمارے اندر کا بچہ آسمان پر کھلے بندوں ُاڑنا چاہتا ہے۔ سرک ڈو سولے کا اگلا شو ’سالتیمبانکو‘ 24 فروری 2005 سے برمنگھم، برطانیہ میں منعقد ہورہا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||