BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 April, 2005, 02:26 GMT 07:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: شرح خواندگی اور معیار

کشمیر
انیس سو سینتالیس میں یہ ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں شرح خواندگی پانچ فیصد سے بھی کم تھی
پاکستان کے زیر انتطام کشمیر میں بنیادی شرح خواندگی گزشتہ پچاس سال میں ساٹھ فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے لیکن معیار کا معاملہ سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔

علاقے میں طالب علموں سے بات کرنے سے اندازہ ہوا کہ تعلیم کے مجموعی معیار کو بلند کرنے کی ضرورت ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کشمیر کے اس حصے میں شرح خواندگی ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے اور اس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس طرح یہاں شرح خواندگی پاکستان سے بہتر اور انیس سو سینتالیس کے مقابلے میں بھی کئی گنا زیادہ ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی آبادی تیس لاکھ سے زیادہ ہے اور یہاں کے محکمہ تعلیم کے مطابق یہاں پڑھ لکھ سکنے والوں کی تعداد تریسٹھ فیصد ہے۔

مظفر آباد میں پائلٹ ہائی سکول نمبر ایک کے صدر معلم فیاض احمد خان نے بتایا کہ انیس سو سینتالیس میں یہ ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں شرح خواندگی پانچ فیصد سے بھی کم تھی۔

پاکستان کے زیر انتطام کشمیر کے وزیر تعلیم چودھری محمد عزیز نے بتایا کہ ریاست کے بجٹ کا چھبیس فیصد تعلیم پر خرچ ہوتا ہے۔

انہوں نے انیس سو سینتالیس کی صورتحال کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت اس علاقے میں کل دو سو بیاسی تعلیمی ادارے تھے جن کی تعداد اب چھ ہزار ایک سو گیارہ ہو چکی ہے۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ حکومت نے لوگوں کے پاس وسائل کی کمی کو محسوس کرتے ہوئے مقامی تعلیمی اداروں کا درجہ بلند کیا تاکہ لوگوں کو گھر کے قریب بہتر مواقع مل سکیں۔

ایک سرکاری سکول کے ہیڈ ماسٹر عبدالرؤف جدون نے بتایا کہ شرح خواندگی میں اضافے کا سب سے زیادہ فائدہ کشمیر میں تحریک آزادی کو پہنچا ہے کیونکہ تعلیم سے لوگوں میں شعور پیدا ہوا اور انہیں مسئلہ کشمیر کے مختلف پہلوؤں سے آگاہی ہوئی۔

وزیر تعلیم چودھری محمد عزیز
وزیر تعلیم چودھری محمد عزیز

مظفر آباد میں ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ شرح خواندگی میں اضافے کا ثمر خواتین تک بھی پہنچا ہے اسکی وجہ یہ کہ یہ والدین یا معاشرے کی طرف سے خواتین کی تعلیم پر کوئی پابندی نہیں ہے اور یہ کہ والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ ان کی بچیاں کچھ نہ کچھ تعلیم حاصل کریں ۔

سائیں سہیلی سرکار ہائر سیکنڈری سکول کی پرنسپل نگہت مبشر نےخواتین کی تعلیم کے بارے میں بتایا کہ رجحان بدل گیا ہے اور اب لڑکیاں ہائر سیکنڈری سکول سے لے کر یونیورسٹی تک لڑکوں سے بہتر نتائج حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ لڑکیاں صرف میٹرک تک پڑھتی ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ بعض اوقات لڑکیاں لڑکوں کے نسبت بہتر کارکردگی دکھاتی ہیں اور اسکی وجہ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ لڑکے مخلتف سرگرمیوں میں وقت ضائع کرتے ہیں جبکہ لڑکیاں زیادہ تر توجہ اپنی تعلیم پر دیتی ہیں ۔

مظفرآباد میں ماڈل سائنس کالج کے طالب علموں امتیاز حسین، محمد ریاض اور محمد بشیر چودھری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست ہے کہ شرح خواندگی میں اضافہ ہوا ہے اور لوگ تعلیمی اہمیت کو سمجھ گئے ہیں لیکن وسائل کی کمی کے باعث ابھی اس میں اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد بشیر چودھری نے بتایا کہ وہ مظفر آباد سے ستر کلومیٹر دور ایک گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں اور صرف پڑھنے کے لیے شہر آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دسویں جماعت میں ان کی کلاس میں سے صرف دو یا تین لڑکے کالج تک پہنچے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیہات میں بہت سے لڑکے وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔

مظفر آباد میں پائلٹ ہائی سکول
مظفر آباد میں پائلٹ ہائی سکول

ان طالب علموں کا خیال تھا معیار تعلیم بلند کرنے کے لیے طالب علموں کے لیے سفری سہولتوں اور وظائف کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں خواتین کی بارے میں رائے تبدیل ہو رہی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سارے لوگوں کا خیال ہے لڑکیوں نے تو پرائے گھر جانا ہوتا ہے اس لیے ان کو میٹرک سے آگے پڑھانے کی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد