’پی پی پی اعتدال پسند جماعت ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی ایک اعتدال پسند جماعت ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی سمیت دیگر روشن خیال جماعتیں ان کا ساتھ دیں تاکہ انتہا پسندوں کو روکا کیا جا سکے۔ جنرل پرویز مشرف کے اس انٹرویو کا مفصل حصہ آپ منگل پندرہ مارچ کو سیربین میں سن سکتے ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ انٹرویو میں صدر مشرف نے کہا کہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ تمام روشن خیال اعتدال پسند قوتیں ان کے ساتھ تعاون کا آغاز مجوزہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے سے کریں تاکہ انتہا پسندوں کو نچلی سطح کی عوامی نمائندگی سے بھی روکا جا سکے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر انتہاپسند آگے آئے تو پاکستان میں ترقی کا عمل پائیدار نہیں رہے گا۔ تاہم ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ انتہا پسندوں اور مذہبی رہنماؤں کا سیاسی طور پر مقابلہ کرنا ہوگا اور انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر ایسا ہوا تو پھر آپ ہی کہیں گے کہ یہ کیسی جمہوریت ہے؟ انہوں نے کہا کہ انتہاپسندوں کو دبانے اور ان کے خلاف کارروائی سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ یہ کارروائی مغرب اور امریکہ کے دباؤ کے تحت ہورہی ہے۔ صدر مشرف نے واضح کیا کہ انتہا پسند اور روشن خیال سوچ رکھنے والے سب مسلمان ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ انتہاپسند اقلیت میں ہیں اور اپنے مقاصد کے لیے اسلام کی غلط تشریح کرتے ہیں۔ صدر نے تسلیم کیا کہ ملک میں انتہاپسندی کا رحجان ہے اور انتہاہ پسند عناصر اسماعیلیوں یعنی آغا خانیوں کو مذہبی اقلیت قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس موقع پر صدر نے آغا خان تعلیمی بورڈ کی حمایت کرتے ہوئے اسے ملک کے مفاد میں قرار دیا۔ جوہری آلات اور مواد کے پھیلاؤ کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے اب تک کی تحقیقات میں کچھ آلات دینے کی بات سامنے آئی ہے اور افزودہ یورینیم دینے کی بات نہیں ہے۔ بلوچستان کی صورتحال خراب کرنے میں غیر ملکی ہاتھ ملوث ہونے کے امکان کو انہوں نے مسترد تو نہیں کیا لیکن اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہ ہونے کی بھی تصدیق کی۔ بلوچستان میں اربوں روپوں کی لاگت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو تین سردار گڑ بڑ کر رہے ہیں اور انہیں معلوم نہیں کہ وہ ایسا اس وقت کیوں کر رہے ہیں جب صوبے میں ترقیاتی کام شروع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ جنسی تشدد کے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ایک فوجی افسر کو بدنام کیا جارہا تھا اور ان کا دفاع کرنا بطور آرمی چیف ان کا فرض ہے۔ اس معاملے پر بعض سوالات کے جواب دیتے ہوئے صدر خاصے ہچکچائے اور کہا کہ انہیں بہت کچھ معلوم ہے اور وہ ایسا کچھ نہیں کہنا چاہتے جس سے خاتون ڈاکٹر کو کوئی نقصان پہنچے۔ سن دوہزار سات کے بعد فوجی وردی میں رہنے یا اتارنے کے متعلق اپنے عزائم کے بارے میں صدر نے بات کرنے سے گریز کیا اور ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مسقبل کے بارے میں کوئی وعدہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ واضح رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف کا یہ انٹرویو ظفر عباس اور پال اینڈرسن نے منگل کی شام کو کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||