’کشمیر پر پیش رفت ضروری ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے مگر وہ اس سلسلے میں کسی دباؤ میں نہیں آئے گا۔ اسلام آباد میں یوم پاکستان کے موقع پر افواج پاکستان کی پریڈ کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کے حل کے لئے پاکستان اور بھارت کو لچک اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پیچیدہ ماضی سے ہٹ کر سوچنا ہو گا اور اس مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو پاکستان،بھارت اور کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہو۔ صدر نے دونوں ممالک کے درمیان جاری اعتماد بڑھانے کے اقدامات کو معنی خیز مذاکرات سے مشروط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اعتماد بڑھانے کے اقدامات اپنا اثر کھو دیں گے اگر کشمیر اور دیگر دیرینہ مسائل کا حل جلد نہ تلاش کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرینگر-مظفرآباد بس سروس سے کشمیریوں کی مشکلات کچھ کم تو ہوں گی مگر یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ صدر نے واضح کیا کہ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ صدر کے مطابق کشمیری گذشتہ کئی عشروں سے مظالم اور تشدد کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ملک کے اندرونی حالات پر صدر جنرل مشرف نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان کو خارجی نہیں بلکہ اندرونی خطرات کا سامنا ہے جن میں انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد شامل ہے۔صدر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ملک سے انتہا پسندی اور دہشت گردی ختم کرنے کے لئے حکومت سے ساتھ مشترکہ جدوجہد کریں۔ یوم پاکستان کی اس فوجی پریڈ میں افغانستان کے صدر حامد کرزئی مہمان خصوصی تھے۔ صدر جنرل مشرف نے کہا کہ صدر حامد کرزئی کی یوم پاکستان کی اس پریڈ کے موقع پر شرکت دونوں ممالک کے درمیان قریبی اور برادرانہ تعلقات کا مظہر ہے۔ صدر مشرف نے اس موقع پر موجودہ عالمی تناظر میں پاکستان کو درپیش چیلنج کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس سلسلے میں اقدامات کر رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||