مبشر زیدی بی بی سی اردو ڈاٹ کام،اسلام آباد |  |
 |  ہرکشن سنگھ سرجیت |
بھارت کی دو بڑی کمیونسٹ پارٹیوں کے رہنماؤں ہر کشن سنگھ سرجیت اور اے کے بردھن نےمنگل کے روز صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کی جس میں پاک-بھارت تعلقات، پاکستانی جیلوں میں قید بھارتی قیدیوں کی رہائی سمیت کئی مسئلوں پر بات چیت ہوئی ہے۔ دفتر خارجہ کے نئے ترجمان جلیل عباس جیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ملاقات میں کمییونسٹ لیڈروں نے پاکستان کی جیلوں میں قید ان بھارتی شہریوں کی رہائی کا مسئلہ بھی اٹھایا جن کو ایران نے سرحدی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان کی سرحد میں دھکیل دیا تھا۔ ترجمان کے مطابق پاکستانی صدر نے وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کیں کہ ان بھارتی شہریوں کی جلد رہائی کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ اس کے علاوہ پاکستانی جیلوں میں قید آٹھ سو بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے۔ اس ملاقات سے قبل بھارتی رہنماؤوں کے اعزاز میں وزیر خارجہ نے ایک ظہرانہ بھی دیا جس میں وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بہتری میں دونوں ممالک کے لوگوں کا ایک دوسرے سے میل جول کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں کئ گرہیں لگی ہوئیں ہیں جن کو کھولنے میں دونوں ممالک کی سیاسی پارٹیاں اور لوگ اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس موقع ہر بھارتی کمیونسٹ رہنماؤوں نے کہا کہ وہ بھارتی حکومت پر پریشر ڈالیں گے کہ وہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات بڑھائے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے لوگ چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام تنازعے پر امن طریقے سے حل ہو جائیں۔ اس ملاقات کے پس منظر میں پاکستان میں مختلف حلقوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا کمیونسٹ لیڈر ایک فوجی جنرل کے ساتھ بات کرسکتے ہیں یا نہیں۔ان بھارتی رہنماؤوں کے میزبان اور پاکستان کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل امداد قاضی کا کہنا ہے کہ اب دنیا بدل گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کمیونسٹ رہنماؤوں کا جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کرنے کی وجہ یہی ہے کہ پاکستان کے تمام فیصلے کرنے کا اختیار جنرل مشرف کے پاس ہے۔ امداد قاضی کا کہنا تھا کہ کمیونسٹ جماعتیں غریب عوام کی نمائیندگی کرتی ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کیونکہ امن چاہتے ہیں لہذا اس سلسلے میں صدر جنرل مشرف سے بات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ |