BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 December, 2004, 23:58 GMT 04:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل مشرف کی ’ریفیولنگ‘

صدر بش اور صدر مشرف
صدر بش پاکستانی صدر سے بہت خوش ہیں
گزشتہ ہفتے جنرل پرویز مشرف امریکہ کے دورے پر تھے۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ صدر بش سے پاکستان میں ’القاعدہ کی کمر توڑنے کی شاباشی لینے گئے تھے جس کے باعث صدر بش الیکشن جیت گئے۔‘

لیکن موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے واشنگٹن کی مسلم لیگ (نواز گروپ) نے بھی فیصلہ کر لیا کہ جنرل مشرف کے منہ کا مزہ کرکرا کرنے کا اس سے بہتر چانس نہیں ملے گا۔ وہ بھی کتبے لے کر جنرل صاحب کا پیچھا کرنے لگے۔

یار لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کو اپنی ’ریفیولنگ‘ کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی چنانچہ وہ امریکہ اتر گئے۔ وہ وردی اتارنے والے تو ہیں نہیں لیکن وہ صدر بش سے یقین دہانی چاہتے تھے کہ وہ ان کی حمایت اور معاونت جاری رکھیں گے۔

بش کا ذخیرہ الفاظ جتنا بھی کم ہو ان میں ٹیکساس کی مروت اور رواداری کی کمی نہیں ہے۔ اس لیے بش نے بھی جنرل مشرف سے وردی کے بارے میں سوال پوچھ کر انہیں شرمندہ نہیں کیا۔ اور وہ کرتے بھی کیوں؟ وہ ایک ٹکٹ میں دو مزے لے رہے ہیں۔ ان کو مشرف کی صورت میں فوج اور سول دونوں ملے ہوئے ہیں۔

اگر مشرف وردی اتار دیں تو بش کو کیا فائدہ؟ کیونکہ طاقت تو نئے وردی والے کے ہاتھ میں ہوگی۔ کون جانتا ہے کہ وہ جہادی ہو یا جہادی دشمن۔

ویسے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جنرل مشرف صدر بش کے لیے بہت ہی اہم شخصیت ہوں گے جو انہوں نے ہفتے کو چھٹی کے دن ان سے سنجیدہ گفتگو کی۔

ہفتے اور اتوار کو تو امریکی صدر کیا کسی چھوٹے افسر کو بھی دفتر بلانا کارے دارد ہے۔ بہر حال وائٹ ہاؤس اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لمبے لاؤ لشکر نے اوور ٹائم کمایا ہوگا اور امریکہ کے بجٹ کے خسارے میں مزید اضافہ کیا ہوگا۔

ٹیکساس کی مروت
بش کا ذخیرہ الفاظ جتنا بھی کم ہو ان میں ٹیکساس کی مروت اور رواداری کی کمی نہیں ہے۔ اس لیے بش نے بھی جنرل مشرف سے وردی کے بارے میں سوال پوچھ کر انہیں شرمندہ نہیں کیا

جنرل مشرف کا یہ دورہ پہلے سے کافی مختلف تھا کیونکہ اس مرتبہ دورہ شروع ہونے سے پہلے نہ کوئی القاعدہ کا ممبر پکڑا گیا اور نہ ہی کسی بڑی مچھلی کے پکڑے جانے کی امید دلائی گئی۔

بلکہ اس کے برعکس جنرل مشرف نے یہ کہہ کر مستقبل کا دروازہ بھی بند کردیا کہ اسامہ بن لادن کو بھول جائیے۔ غالباً جنرل مشرف کو اندازہ ہے کہ بش الیکشن جیت چکے ہیں اور اب اسامہ کی افادیت محدود ہو چکی ہے۔ اسامہ بن لادن امریکی الیکشن سے چند روز پہلے ٹیپ بھیج کر بش کی جتنی مدد کر سکتے تھے وہ کر گئے۔ اسامہ کا انعام یہی ہے کہ ان کو فراموش کر دیا جائے۔

اسامہ بن لادن کے علاوہ بھی جنرل مشرف کی خود اعتمادی کافی بلند تھی۔ ان کاصدر بش کے ساتھ فلسطین کا مسئلہ اٹھاناظاہر کرتا ہے کہ ان کو بش کے ساتھ اپنے تعلقات پر کافی اعتماد ہے۔ صدر بش نے جنرل مشرف کی کافی تعریف و توصیف کی اور ان کا اس بات پر دفاع بھی کیا کہ وہ اسامہ کو کیوں پکڑ نہ سکے یا ان کی فوجیں وزیرستان سے کیوں پیچھے ہٹ رہی ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ الیکشن کے دوران صدر بش کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ اگر کچھ تھا تو جنرل مشرف تھے اور قدیر خان کے نیٹ ورک کے پکڑے جانے کے دعوے۔ اس لیے بش الیکشن کے دوران یہی کہتے رہے کہ ہم نے پاکستان کو کامیابی سے اپنا حلیف بنایا ہے اور قدیر خان کا دھندا بند کیا ہے۔غرضیکہ دونوں کامیابیاں جنرل مشرف کی مرہون منت تھیں۔

جب صدر مشرف امریکہ کے دورے پر تھے تو یہاں چوہدری شجاعت کے بارے میں بھی افواہیں گرم تھیں کہ ان کی مسلم لیگ کی سر براہی سے چھٹی ہو رہی ہے۔ ناقدین کا منہ بند کرنے کے لیے چوہدری شجاعت نے جنرل مشرف کو اسلام آباد سے ہی امریکہ میں ایک لنچ کا پابند کروا لیا ہوا تھا۔ پاکستانی سفارت کاروں نے اس لنچ پر بڑی چوں چراں کی اور لنچ منسوخ کروانے کی بھاگ دوڑ کی لیکن چوہدری صاحبان چھا گئے۔اس طرح جنرل مشرف اپنی ’ریفیولنگ‘ بھی کروا گئے اور اپنے حامیوں کی بھی کا فی ’ریفیولنگ‘ کر گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد