BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 November, 2004, 08:26 GMT 13:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کا شہنشاہ اورنگ زیب؟

بش
کیا جارج ڈبلیو بش امریکہ کا شہنشاہ اورنگ زیب ہے جس کا دور امریکہ کے انحطاط کا نقطہِ آغاز ہے؟ عنوان اور شواہد کافی ملتے جلتے ہیں لیکن تاریخ کے بارے میں پیش گوئی اندھیرے میں بلی پکڑنے کے مترادف ہے جو کبھی ہاتھ لگ جاتی ہے اور کبھی نہیں۔ جب اورنگ زیب بھائیوں کا صفایا کر کے اور باپ کو قید کر کے تخت نشین ہوا تھا تو مغلیہ سلطنت کافی خوشحال تھی اور ہندوستان کافی حد تک پر امن تھا۔

اورنگ زیب نے اپنے پیشرووں کی روشن خیالی کو ترک کر کے مذہبی تنگ نظری کا رویہ اپنایا۔ اس نے نہ صرف غیر مسلموں کا جینا حرام کردیا بلکہ مسلمانوں کے اقلیتی فرقے شیعہ کو بھی اٹھا کر کشمیر پھینک دیا۔ ہندوؤں پر نہ صرف جزیہ لگایا بلکہ جب انہوں نے احتجاج کیا تو ان پر ہاتھی چڑھا دئیے۔ اس کی تنگ نظری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے مونچھیں ماپنے کے لئے عملہ رکھا ہوا تھا جو ناپ لے کر گلی گلی پھرتا تھا۔لمبی مونچھیں بھی کاٹ دی جاتی تھیں اور سزا بھی دی جاتی تھی۔

اورنگزیب سلطنت کو بچانے کے لیے ساری عمر جنگیں لڑتا رہا۔ اس کی آنکھ بند ہونے سے پہلے ہی سلطنت مغلیہ کا شیرازہ بکھرنا شروع ہو گیا تھا۔ اس کے مرنے کے بعد مغلیہ سلطنت بظاہر ڈیڑھ سو سال قائم رہی، درجنوں بادشاہ آئے اور گئے لیکن مغلیہ سلطنت کا ڈوبتا ستارہ پھر نہ ابھر سکا۔ کمتر سطح پر یہی کچھ اورنگ زیب خورد، ضیاء الحق نے کیا۔ اس نے بھی مذہبی تنگ نظری کی جو بنا ڈالی اس کا نتیجہ ہے کہ آج پاکستان میں ہر فرقہ دوسرے کو کافر سمجھ کر قتل کرنے پر تلا ہوا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ پاکستان میں ضیاء کی پیدا کی ہوئی طوائف الملوکی مغلیہ دور کے آخری زمانے سے مشابہہ ہے۔

بظاہر صدر بش بھی اورنگ زیب اور ضیاء الحق کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے موجودہ انتخاب خالصتاً مذہبی نعروں پر جیتا ہے اور اب وہ مذہبی دھڑوں کا فلسفہ حیات امریکہ پر لاگو کرنے جا رہے ہیں۔ ان کو مذہبی قدامت پرستوں کی زیر سر کردگی شہروں سے دور رہنے والے دیہی عوام نے ووٹ دیا ہے۔ بش جس ریاست سے تیس فیصد سے بھی زیادہ ووٹ لے کر جیتے ہیں وہاں کے بڑے شہروں میں وہ ہارے ہیں اور نیویارک جہاں کیری بھاری اکثریت سے جیتے ہیں وہاں کے مذہبیوں اور دیہی لوگوں نے بھی بش کو ووٹ دیئے ہیں۔ غرضیکہ بش امریکہ کے سب سے زیادہ پچھڑے ہوئے عوام کے نمائندے ہیں۔

اس سیاق و سباق میں مذہبی بنیاد پرستوں نے جائز طور پر جیتنے کا اعزاز اپنے نام لگا لیا ہے اور وہ امریکی ٹی وی پر روز یاد دلاتے ہیں کہ بش صرف ان کے ووٹوں سے جیتے ہیں لہذا اب وہ ہوگا جو وہ چاہتے ہیں۔ قدامت پرست پادری جیری فال ویل کا کہنا ہے کہ یہ موقع پچاس سال کی جدوجہد کے بعد ان کے ہاتھ آیا ہے، وہ اس کو کسی بھی صورت میں ضائع نہیں کر سکتے۔

اس الیکشن کو جیتنے کے لیے بش نے امریکی معاشرے کے سب سے زیادہ تنگ و تاریک ذہنوں کو استعمال کیا ہے۔ انہوں نے چرچوں کے حوالے سے اس طرح سے تحریک چلائی کہ عراق کی جنگ کے لیے بولے گئے جھوٹ، معیشت کی بد حالی اور عوام کے لئے پیدا ہونے والی نئی مشکلات کی بجائے مذہب اور اخلاق کے مسائل اہم ترین بنا دیئے گئے۔ ہم جنسوں کے درمیان شادی اور اسقاط حمل جیسے مسائل کو عراق میں مرنے والے لاکھوں بے گناہوں سے زیادہ اہمیت دی گئی۔ یہ مذہب کے سیاست میں غلط استعمال کی کلاسیکل مثال ہے یعنی صحیح معنوں میں مذہب کو عوامی افیم کے طور پر استعمال کیا گیا۔

بش اور ان کے نامی گرامی سیاسی دماغ کارل رو نے یہ سارا کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا۔ کارل رو نے پچھلا الیکشن ختم ہوتے ہی کٹر اور بنیاد پرست عیسائیوں کے ووٹ رجسٹر کروانا شروع کر دیئے تھے اور چار سال انہی کو خوش کرتے رہے۔ ان کو جیتنے کے لیے تو بش نے یہاں تک کہ دیا کہ وہ تو صرف آسمانی کتاب سے ہدایت لیتے ہیں۔

تاریخ میں جب بھی اس طرح سے مذہب اور سیاست کو خلط ملط کیا گیا نتیجہ تباہی کی صورت میں نمودار ہوا۔ بش نے امریکہ کو عراق کی جنگ میں تو پھنسا ہی دیا ہوا ہے اور اگر وہ اپنی روش پر قائم رہے تودشمنوں میں اضافہ کرتے جائیں گے۔ اس کے علاوہ چند سالوں میں امریکہ کے اندر بھی فرقہ ورانہ اور دوسرے تضادات تیز تر ہوتے جائیں گے۔ تنگ نظری بڑھتی جائے گے اور تشدد جم لے گا کیونکہ تشدد اور تنگ نظری کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ بش نے ملک کو جس راستے پر ڈال دیا ہے اس سے واپسی کے امکانات کافی کم ہیں۔ اس الیکشن میں بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ امریکہ بش کی انتہا پسندی کو ٹھکرا کر اپنی درستگی کرے گا۔ لیکن ہوا اس کے الٹ اور شاید اب امریکی درستگی کے امکانات کم ہو چکے ہیں۔

بش نے ہلکے پھلکے انداز میں اپنے مخالفین کی طرف ہاتھ بڑھانے کا اشارہ دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہ دیا کہ ان کو امید ہے کہ ان کے مخالف ان کے پروگرام کی حمایت کریں گے۔ یعنی مفاہمت ان کی شرائط پر ہوں گی۔ یہ کٹر نظریاتی حاکموں کا جانا پہچانا انداز ہے۔ اورنگ زیب کا نظریہ بھی کچھ اسی طرح کا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد