چار اور سال یا چار اور ملک؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدارتی انتخاب کے دوران صدر بش کے حامیوں کا نعرہ تھا ’فور مور ایرز‘ اور اس کے جواب میں ’فور مور کنٹریز‘ کا نعرہ مقبول ہوا۔ کیا اب اس نعرے کے عملی شکل میں ڈھلنے کا کوئی امکان ہے یا یہ بش مخالفین کی محض نعرہ بازی ہے؟ کیا بش اپنی قدامت پرست جارحانہ پالیسیوں کو جاری رکھیں گے کیونکہ ان کے برادرِ خورد اور فلوریڈا کے گورنر جیب بش کوبھی جلد یا بدیر صدارتی انتخاب لڑنا ہے؟ کونسل آف فارن ریلیشنز کے صدر رچرڈ ہیس کا کہنا ہے کہ امریکہ کی عراق کے خلاف جنگ اختیاری تھی (مجبوری نہیں)۔ اس اختیاری جنگ کو شروع کرکے صدر بش نے خارجہ پالیسی کے میدان میں اپنے اختیارات محدود کر لئے ہیں۔ بڑھتے ہوئے بجٹ کے خسارے، بیرونی دنیا سے ریکارڈ قرضوں کے علاوہ امریکی فوج کے بہت بڑے حصے کے عراق میں بر سر پیکار رہنے سے صدر بش کے ہاتھ کافی حد تک بندھ گئے ہیں۔ جناب رچرڈ ہیس کے خیالات کو آسانی سے نظرانذاز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ بش انتظامیہ کے گھر کے بھیدی اور ریپبلکن پارٹی کے بہت قریبی ہی ہیں۔ وہ بش حکومت کے پہلے دو سالوں میں سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں پالیسی پلاننگ کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔ امریکہ کی پاک ہند پالیسی کے خالق ہوتے ہوئے وہی یہ پرچار کرتے رہے ہیں کہ امریکہ کو دنوں ملکوں سے آزادنہ تعلقات رکھنا چاہیے۔ واشنگٹن کے حلقوں میں کہا جاتا ہے کہ بش انتظامیہ ان کے مشوروں کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ خارجہ تعلقات کے بہت سے دوسرے ماہرین بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اب بش انتظامیہ کے پاس مہم جوئی کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ عراق کو ہی سمیٹنا کافی مشکل ہو جائے گا۔ اگر امریکہ نےکچھ کیا بھی تو ایران کی جوہری تنصیبات پر ہوائی حملے تک محدود ہوگا۔ شمالی کوریا پر ہوائی حملہ کرنا بھی مشکل ہے کیونکہ اس کے پاس اتنے دور مار میزائل ہیں کہ وہ جنوبی کوریا اور جاپان میں تباہی مچا سکتا ہے۔ لہذا شمالی کوریا کا معاملہ صلح صفائی سے ہی طے کیا جائے گا۔ اس نظریے کے ماننے والوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو سمجھتے ہیں ہر امریکی صدر اپنی دوسری ٹرم میں ایسے اقدامات کرتا ہے جن سے اس کا نام تاریخ میں یادگار بن جائے۔ کہا جاتا ہے کہ صدر ریگن نے اپنی پہلی ٹرم میں روس کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی اور دوسری ٹرم میں اسی ملک کے ساتھ تاریخی نوعیت کے معاہدے کئے۔ صدر کلنٹن نے دوسری ٹرم میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان سمجھوتہ کروانے کی کوشش کی اور کارٹر نے مصر اور اسرائیل کے درمیان تاریخی معاہدہ کروایا۔ صدر بش بھی فلسطینی ریاست کو وجود میں لا کر یا مشرق وسطی میں جمہوری نظام متعارف کروا کر اپنا نام تاریخ میں بنا سکتے ہیں۔ لیکن بروکنگ انسٹیٹیوٹ کے فلپ گورڈن کا کہنا ہے کہ بش ان میں سے کسی ماڈل کو نہیں اپنائیں گے اور وہی کریں گے جس کا وہ دعوی کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’یہ صدر وہی کرتا ہے جس کا وہ دعوی کرتا ہے۔ وہ یورپ یا کسی اور ملک کی خاطر اپنا نظریہ حیات تبدیل نہیں کرے گا۔‘ جناب گورڈن اپنے دعوے کے ثبوت میں کہتے ہیں کہ الیکشن کے دوران بش کے پاس موقعہ تھا کہ وہ اپنی خارجہ پالییسی کو معتدل کر لیتے اور یورپ کے بارے میں اپنے خیالات تبدیل کر لیتے لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ الیکشن کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے یہی کہا کہ وہ اپنی سابقہ پالیسی کو جاری رکھیں گے اور عراق میں انتخابات کروانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ ان کا مشرق وسطی میں جموریت پھیلانے کا دعوی برقرار ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کو علم ہے کہ ان کے عراق کے حملے سے بہت سے ملک خوش نہیں ہیں لیکن انہوں نے اپنے ملک کی حفاظت کرنے کے لئے ایسا کرنا ضروری سمجھا۔ بہت سے امریکی سفارت کاروں کو امید ہے کہ اب یورپی ملکوں کے پاس بش انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ اب ان کو علم ہے کہ صدر بش اگلے چار سال تک رہیں گے۔ اس کے جواب میں ناقدین کہتے ہیں کہ یورپ میں بش نفرت حد کو پہنچی ہوئی ہے اس لئے ایسا ہونا کوئی ضروری بھی نہیں ہے۔ امریکہ کو ایران اور شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے نپٹنے کے لئے یورپ کی زیادہ ضرورت ہے اور اسے ہی ایسے اقدامات اٹھانے ہوں گے کہ یورپی اتحادی اس کا پھر سے ساتھ دیں۔ صدر بش کی کابینہ کے ممبروں کے ردبدل کو بھی اس پہلو سے دیکھا جا رہا ہے۔ اگر جنرل کولن پاول کی جگہ کونڈا لیزا رائس آتی ہیں (جس کے امکانات بہت کم ہیں) تو اس سے یہ اندازہ ہوگا کہ نئے قدامت پرستوں کی پکڑ اور مضبوط ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈونلڈ رمزفیلڈ اور پال ولفوز کا معاملہ ہے۔ کہا تو یہ جا رہا ہے کہ پرانی کابینہ کےلوگ وزارتیں اس لئے چھوڑ رہے ہیں کہ اگلے چار سال میں افسری کرنے کی بجائے مال بنایا جائے۔ کیونکہ ایسا وقت پھر شاید نہ آئے۔ ان سب پہلووں کے علاوہ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بش اپنے قدامت پرست ووٹروں کے ساتھ کیا تعلق رکھتے ہیں۔ اگر تو انہیں اپنے چھوٹے بھائی کو صدر بنوانا ہے تو وہ ان کو ناراض نہیں کر سکتے جس کا مطلب ہو گا پہلے کی طرح کے چار اور سال! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||