BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 November, 2004, 08:06 GMT 13:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
۔۔۔ مگر ہم کیا ہیں؟

صدر بش
اگر بش ہار بھی جاتے تو ہم وہی رہتے جو ہیں
صدر بش ایک دفعہ پھر وائٹ ہاؤس کی جنگ جیت گئے اور ہندوستان اور پاکستان میں لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ آخر امریکی کیسے لوگ ہیں جنہوں نے اس طرح کے آدمی ووٹ دیا ہے۔ امریکیوں کو اپنے علاوہ کسی کا کوئی خیال نہیں، انسانی حقوق کی کوئی پرواہ نہیں، دنیا بھر میں قتل وغارت برپا کر رکھی ہے انہوں نے۔ اور امریکی حکومت یہ ہے امریکی حکومت وہ ہے وغیرہ وغیرہ۔

اور میں ایک بار پھر اس سوچ میں پڑ گئی کہ امریکی اور امریکی حکومت تو جو ہے سو ہے مگر ہم کیا ہیں۔ میں نے امریکیوں کی منافقت بھی دیکھی ہے اور ان کی حکومت کی طرف سے امریکی جانوں کو دنیا بھر پر فوقیت دیتے بھی دیکھا ہے۔ اور بہت قریب سے دیکھا ہے۔

لیکن منافقت صرف امریکیوں کا شیوہ نہیں۔ میں نے پاکستان میں اس سے بھی کہیں زیادہ منافقت دیکھی ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ اگر کسی مغربی ملک میں کسی مسلمان سے زیادتی ہو جائے تو ہم اقلیتوں کے حقوق کے نعرے بلند کرتے ہیں لیکن پاکستان میں اقلیتوں کو اتنی حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ گھر میں کسی غیر مسلم سے روٹی پکوانا ہمیں گوارا نہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ اگر امریکہ عراق پر حملہ کرتا ہے تو ہم صدام حسین کے پوسٹر اٹھا کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں لیکن جب صدام سینکڑوں افراد کو زہریلی گیس سے مار ڈالتا ہے تو ہمارے اخباروں میں خبر تک نہیں چھپتی۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہم یہ سوال تو ضرور اٹھاتے ہیں کہ افغانستان اور عراق کے معصوم عوام کا کیا قصور ہے، انہیں کیوں ہلاک کیا جا رہا ہے لیکن یہ کبھی نہیں سوچتے کہ پاکستان میں پیدا ہونے والے ایک ہندو یا عیسائی کا کیا قصور ہے۔ سوائے اس کے کہ وہ پاک دھرتی میں پیدا ہوا اور اتنے ہی ابتر حالات کا شکار ہے جتنا کہ ہم سب۔

عراق پر امریکی حملے کے ساتھ ہی پاکستان کے تمام گرجا گھر کیوں خطرے میں پڑ جاتے ہیں؟ کیوں بابری مسجد کی بات آتے ہی ملک کے مندر جلنے لگتے ہیں؟

میں نے عراقی جانوں کے ضیاع پر لوگوں کو افسوس کرتے دیکھا ہے مگر انہی لوگوں کو ڈینئیل پرل کے اغوا اور بعد میں قتل کیے جانے پر یہ کہتے بھی سنا ہے کہ : ’یہ سب امریکی حکومت کا قصور ہے‘۔

اگر عراقیوں کا مرنا صدام حسین کا قصور نہیں تو عام امریکی شہریوں کا مرنا امریکی حکومت کا قصور کیسے ہوگیا؟

گیارہ ستمبر کے حملوں کے وقت میں امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں تھی۔ اس وقت میں نے وہاں ایک کالج میں ایک مسلمان لڑکی کا انٹرویو کیا جس نے مجھے بتایا کہ حملوں کے فوراً بعد اس کے کالج کے ڈِین نے اسے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ وہ اس کے خیریت سے گھر پہنچنے کا انتظام کریں گے تاکہ اسے کسی قسم کے ہراس کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ اس کے ساتھ کام کرنے والوں نے اسے کہا کہ اگر اسے کسی قسم کا خوف ہو تو اکیلی بازار نہ جائے وہ اسے ساتھ لے جائیں گے۔

خود میرے گھر ایف بی آئی کے اہلکار آئے۔ وہ میرے کزن سے ملنا چاہتے تھے جو ایک امریکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہا تھا اور میرے پاس مقیم تھا۔ مگر اُن کا رویہ ایسا تھا جیسے وہ ہمارے گھر آنے اور ہم سے سوال کرنے پر شرمندہ ہیں۔ بہت تمہید کے بعد انہوں نے بات شروع کی۔ ’دیکھیے جی، ہمیں بہت افسوس ہے کہ ہم آپ کے آرام میں مخل ہو رہے ہیں۔ مگر آپ سمجھ سکتے ہوں گے کہ ہمیں ایسا کیوں کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں تمام غیر ملکی طالب علموں کے پاس جانا ہے۔ ہم صرف آپ کے پاس نہیں آئے۔ اور آپ بالکل نہ گھبرائیں۔ یہ صرف روٹین کی کارروائی ہے‘ وغیرہ وغیرہ۔ اور اگرچہ مجھے پاکستانی پولیس سے کبھی اس طرح براہ راست سابقہ نہیں پڑا لیکن ان کے بارے میں میں نے لوگوں سے یہی سنا ہے کہ بھائی ان پولیس والوں کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی۔

امریکی عوام عراق پر حملے کی مخالفت اس لیے نہیں کرتے کہ وہ اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کی اصلیت سے ناواقف ہیں۔ ان میں سے اکثر سے بات کرتے ہوئے جب بھی میں نے خارجہ پالیسی کی حقیقت، اس کی تاریخ اور پاکستان جیسے ممالک پر اس کے اثر کا تذکرہ کیا تو پہلے تو انہوں نے حیرت کا اظہار کیا اور پھر افسوس کہ واقعی ہماری حکومت نے زیادتی کی۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی حکومت کا جو چہرہ انہیں اندرون ملک نظر آتا ہے وہ اس سے مختلف ہے جس سے بیرونی دنیا کا واسطہ پڑتا ہے۔ یہاں وہ اور ان کی حکومت ذمہ دار بھی ہیں۔ لیکن اگر دوسری طرف دیکھیں تو پاکستان کے عوام حکومت کی طالبان حمایت پر اس لیے خاموش نہیں تھے کہ وہ اس سے لا علم تھے۔ بلکہ اس لیے کہ ان میں سے اکثر کو اس کی پرواہ نہیں تھی کہ افغانستان میں کیا ہو رہا ہے۔ انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں یا نہیں۔ ظلم ہو رہا ہے یا نہیں۔ اور اگر ہو رہا ہے تو اس میں ہماری حکومت کا کیا کردار ہے۔

میں امریکہ کی حمایت نہیں کر رہی۔ نہ تو میں کوئی اس قسم کا تاثر دینا چاہتی ہوں کہ میں بش سے خوش ہوں اور نہ ہی میں اس بحث میں پڑنا چاہتی ہوں کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر بات منافقت کی ہی ٹھہری تو پھر ہمیں حضرت علی کا یہ قول یاد رکھنا چاہیے کہ تم جب اپنے ہاتھ کی ایک انگلی کسی کی طرف اٹھاتے ہو تو تمہارے ہاتھ کی تین انگلیاں تمہاری طرف اشارہ کر رہی ہوتی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد