پرانے اور نئے کی ٹکر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکن الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی نے کہا ہے کہ ایک طرف تو یہ مقابلہ ’ول اور گریس‘ کا چرچوں کے ساتھ تھا اور دوسری طرف ’فارن ہائٹ 11/9‘ کا پیشن آف دا کرائسٹ کے ساتھ۔ مطلب یہ ہےکہ خاندان کا پرانا تصور نئی طرح کی خاندانی تنظیم سے ٹکرا رہا ہے اور مذہب کا پرانا تصور سیاست کے نئے رجحانات کے خلاف ردعمل کر رہا ہے۔ کیا جرمن مفکر ایرک فروم کا مقولہ امریکہ پر صادق آتا ہے کہ نئے اور پرانے کی کشمکش میں پیدا ہونے والی غیر یقینی فضا آمریت کو جنم دے رہی؟ ’ول اور گریس‘ ٹی وی سٹکام پروگرام ہے جس میں ایک خاتون، گریس اور ایک گے ( ہم جنس) مرد، ول، ایک خاندان کی طرح اکٹھے رہتے ہیں۔ ان کے درمیان مرد اور عورت کا روائیتی تعلق نہیں ہے کیونکہ گے مرد اپنا ساتھی ڈھونڈتا رہتا ہے اور گریس اپنے مرد ساتھی کی تلاش میں رہتی ہے۔ اس کے باوجود دونوں کے درمیان جو محبت کا رشتہ ہے وہ کبھی بہن بھائی جیسا اور کبھی عاشق و معشوق جیسا لگتا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں اس طرح کے کئی اور بھی پروگرام ہیں جن میں گے مرد اور عورتیں مرکزی کردار ادا کررہی ہیں۔ چند سال پیشتر اسی طرح کے ایک اور پروگرام میں جب مرکزی کردار مرفی براؤن بن بیاہی ماں بنی تھی تو اس پر میڈیا میں کافی شور مچا تھا۔ اس کے بعد مقبول پروگرام ’فرینڈز‘ سمیت بہت سے ایسے شو ہوئے جن میں بہت سی خواتین بن بیاہی مائیں بنیں۔ اب بن بیاہے ماں یا باپ بننا عام سی بات ہو گئی ہے۔ اسی طرح امریکہ کی شمال اور مغرب کی صنعتی ریاستوں میں گے ہونا کوئی خاص بات نہیں ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ٹی وی وہی کچھ دکھا رہا ہے جو عام زندگی میں ہو رہا ہے۔ مثلا امریکہ اور یورپ میں بیس سال پہلے صرف پانچ فیصد بچے بن بیاہی ماؤں کے ہاں پیدا ہوتے تھے لیکن اب تیس فیصد بن بیاہی مائیں بچوں کو جنم دیتی ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی کےسیاہ فام باشندوں میں اس طرح کی ماؤں کی تعداد ستر فیصد ہے، یعنی دس میں سات مائیں بن بیاہی ہیں۔ بن بیاہی مائیں ہوں یا گے جوڑے یہ مختلف نوعیت کے خاندانی ڈھانچوں کو تشکیل دے رہے ہیں۔اب نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی سمیت، سینکڑوں ہم جنس عورتیں اور مرد خاندانی یونٹ بنا کر رہ رہے ہیں۔ ان کی شادی کی خواہش اور کوشش بھی اپنے رشتے کو سماجی وقار دلوانے کے لیے ہے۔ ان مثالوں سے صاف ظاہر ہے کہ معاشرے کی اخلاقی اور سماجی قدروں میں ایک انقلاب آرہا ہے۔ انسانوں کے آپسی رشتے تیزی سے بدل رہے ہیں اور اس کے ساتھ خاندان اور دوسرے ادارے بھی۔ دو دہائی پیشتر جب کیمیونیکیشن ٹیکنالوجی میں انقلاب آنا شروع ہوا تھا تو مشہور مستقبل بین جوڑے ایلون ٹافلر اور ہیڈی ٹافلر نے پیش گوئی کی تھی کہ کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے عام ہونے کے بعد خاندان کا تصور بدل جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑا مشترکہ خاندان زرعی سماج کی اور مختصر خاندان (میاں بیوی اور بچوں تک محدود) صنعتی دور کی پیداوار تھے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کے دور میں یہ دونوں طرح کے خاندان یاد ماضی بن جائیں گے اور جن کی جگہ انسانوں میں جو اشتراک عمل پیدا ہو گا اسےخون کے رشتوں کے بجائے مختلف عناصر طے کریں گے۔ بن بیاہے اور گے جوڑوں کی مشترکہ رہائش اسی بدلتے ہوئے خاندانی تصور کا پرتو ہے۔ ظاہر بات ہے کہ صدیوں سے مروجہ خاندان کا تصور اس سے ٹکرا رہا ہے۔ ہمیشہ کی طرح یہ تبدیلیاں زیادہ ترقی یافتہ علاقوں اور شہروں میں آرہی ہیں اور انہیں قبول بھی کیا جا رہا ہے۔ امریکہ میں شمال مشرق اور مغرب کی صنعتی ریاستیں روشن خیالی کے ساتھ اس تبدیلی کو قبول رہی ہیں۔ لیکن جنوب اور میان مغرب کی ریاستوں کی پچھڑی ہوئی اکثریت اس تبدیلی سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے مذہب کی پناہ میں جارہی ہے اور بنیاد پرست عیسائیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی پس منظر میں ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ جنوب کی ریاستیں ہی بنیاد پرستی کا گڑھ کیوں ہیں؟ خاندان کے علاوہ بھی بہت سے پہلووں سے معاشرے میں بنیادی تضادات تیز ہوچکے ہیں۔ مال و زر کے سرمائے کے جگہ ذہنی سرمایہ زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے بیس سالوں میں ارب پتی ہونے والے آئل کمپنیوں کے مالک نہیں بلکہ وہ ہیں جنہوں نے گیراجوں سے کمپیوٹر کا کاروبار شروع کیا اور دنیا کے امیر ترین افراد بن گئے۔ اس لیے پرانی اور نئی صنعتوں میں بھی ٹکراؤ ہے۔ آئل کمپنیوں کے مالکوں نے بش کی حمایت کی جبکہ یاہو کے بانی اور عالمی سرمایہ کے نامور کھلاڑی جارج سورو نے کیری کی۔ اس طرح کی غیر یقینی صورت حال میں بہت سے لوگ مذہب اور پرانی روایات میں پناہ لیتے ہیں اور بش جیسے جارحانہ انداز سے تحفظ کی باتیں کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||