استعفے کیا گُل کھلائیں گے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر بش کی جیت کے ساتھ ہی سی آئی اے کے بہت سے اہم افسروں نے استعفے دے دیئے ہیں۔ ایسا ہونا ہی تھا کیونکہ ریپبلکن پارٹی کے مقرر کردہ نئے ڈائریکٹر پورٹرگاس نے صاف صاف کہہ دیا کہ سی آئی اے کا فرض ہے کہ وہ بش انتظامیہ کی ہر طرح سے مدد کرے۔ ان کے مخالفین اور بہت سے پرانے جاسوسوں کا کہنا ہے کہ سی آئی اے کو قومی خدمت کرنے کی بجائے ریپبلکن پارٹی کی غلامی کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ بہرحال پبلشرز کا دھندہ اچھا ہو گیا ہے کیونکہ سی آئی اے سے مستعفی ہونے والوں اور نکالے جانے والوں کی متعدد کتابیں بش انتظامیہ کا کچا چٹھہ بیان کرنے والی ہیں۔ انتظار کیجئے۔ صدر بش کی پرانی کابینہ سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت آہستہ آہستہ استعفے دے رہی ہے اور نئے نورتنوں کو وائٹ ہاؤس کی زینت بنایا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع ڈونلڈ رمز فیلڈ اور ہوم سیکورٹی کے وزیر ٹام رج جیسے اہم لوگوں کےاستعفے ابھی تک افواہوں کی بھٹی میں پک رہے ہیں۔ زیادہ مصدقہ خبر یہ ہے کہ ڈونلڈ رمز فیلڈ اور ان کے نائب وزیر دفاع پال ولفوِٹز کی نوکری پکی ہے، ان کو سابقہ پالیسیاں جاری رکھنے کا پروانہِ راہداری مل گیا ہے۔ یہ لوگ نئے قدامت پرستوں کے گروگھنٹال نائب صدر ڈک چینی کے ہم پیالہ و ہم نوالہ مانے جاتے ہیں۔ صدر بش جن لوگوں کو نامزد کر رہے ہیں وہ پہلے سے ان کی ٹیم میں ہیں اور ان کے بہت پرانے ہم خیال اور وفادار ہیں۔ جنرل کولن پاول جیسے لوگ جو اپنی روحانی تسلی کے لئے اختلاف کرتے ہوئے بھی ان کی جائز ناجائز خدمات بجا لا رہے تھے وہ گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
ٹیکساس کی گورنری کے زمانے کی ہی مس مارگریٹ سپلنگز ہیں جن کو وزیر تعلیم بنایا جا رہا ہے۔ وہ وائٹ ہاؤس میں داخلہ پالیسیوں کی مشیر تھیں۔ اسی طرح وائٹ ہاؤس میں مقیم ڈاکٹر کونڈا لیزا رائس کو وزیر خارجہ اور ان کے ڈپٹی سٹیفن ہیڈلی کو ان کی جگہ نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بنایا جا رہا ہے۔ ریپبلکن مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر مکمل کامیابی کے لئے حکومتی مشینری پر اپنا براہ راست قبضہ جما رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ساتھ ساتھ پوری کابینہ کی ان تبدیلیوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ صدر بش اپنی سابقہ چار سالہ پالیسیوں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وہ وہ صائب الرائے لوگوں کی جگہ وفاداروں کا تعین کر رہے ہیں۔ جنرل کولن پاول کے استعفی کے بعد کونڈا لیزا رائس کی نامزدگی سے یہ ثابت ہو گیا کہ صدر بش سمجھتے ہیں کہ الیکشن میں ان کی جیت نے ثابت کر دیا ہے کہ عوام ان کی خارجہ پالیسیوں کی ہم خیال ہے۔ ان کے معترضین کا کہنا ہے کہ بش کو صرف دیہی اور مذہبی لوگوں نے ووٹ دیا ہے جن کو خارجہ پالیسی تو کیا اکثر ملکوں کے نام بھی نہیں آتے۔
تجربہ کار سفارت کار بہت کم موقعوں پر بیباک بیان دینے ہیں لیکن کونڈا لیزا رائس کی نامزدگی میں کچھ ایسی بات تھی کہ سابقہ وزیر خارجہ ایگل برگر نے سی این این کی پالا زان کو انٹرویو دیتے ہوئے تڑاخ سے کہہ دیا کہ ڈاکٹر رائس کو یہ عہدہ دینا درست نہیں ہے۔ ان کی رائے میں ڈاکٹر رائس خطرناک حد تک صدر بش کی ہم خیال ہیں۔ جنرل کولن پاول ایک مختلف نقطئہ نظر پیش کرتے تھے لیکن اب بش کی خارجہ پالیسی میں وہی لوگ رہ گئے ہیں جو ایک دوسرے کے ہم خیال ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صورت حال صحت مندانہ نہیں ہے اور اس کے برے نتائج نکل سکتے ہیں۔ سفارتی حلقوں میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جنرل کولن پاول کے نکلنے کے بعد نائب صدر ڈک چینی کو خارجی امور چلانے کی کھلی چھٹی مل گئی ہے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے ایک سینیئر پاکستانی سفارت کار دور کی کوڑی لائے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ڈاکٹر رائس کو لایا ہی اس لئے گیا ہے کہ صدر بش سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو براہ راست اپنے تحت لانا چاہتے ہیں۔ اس سے وہ نائب صدر ڈک چینی کا بھی پتا کاٹ رہے ہیں۔ ہمارے خیال میں اس کے امکانات کم نظر آرہے ہیں۔ شواہد بتا رہے ہیں کہ خارجہ پالیسی پر قدامت پرستوں کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئی ہے۔ پاکستانی سفارت کار اس معاملے میں غالباً درست کہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ سابقہ پالیسی جاری رہے گی کیونکہ اس پالیسی کا منبع خود صدر بش ہیں۔ ہمارے خیال میں دوسرے علاقوں کے بارے میں صورت حال کچھ اس طرح سے ہوگی۔ ٭ جونہی ایران کا یورپین ملکوں کے ساتھ معاہدہ کمزور ہوگا (یا کر دیا جائےگا) تو امریکہ ایران پر معاشی پابندیاں لگانے اور حکومتی تبدیلی پر زور دے گا۔ اس طرح کا ماحول بنایا جائے گا کہ اسرائیل ایرانی تنصیبات پر فضائی حملہ کر دے اور امریکہ خاموشی اختیار کئے رکھے۔ ٭ شام میں بھی حکومتی تبدیلی کے لئے دباؤ ڈالا جائےگا۔ ٭ اسرائیل کے ایریئل شیرون کو اور بھی کھلی چٹھی مل جائے گی اور باوجود یاسر عرفات کی موت کے کوئی پیش رفت نہیں ہوگی۔ ٭ شمالی کوریا سے گفت و شنید کی جگہ معاشی پابندیوں سے کام لیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||