امریکہ کے نسل پرست ’جہادی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹمیتھی میکوے کو ریاست اوکلاہاما میں وفاقی عمارت کو بم سے اڑانے اور بچوں سمیت سینکڑوں لوگوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں پھانسی دی گئی تو اسے کسی طرح کا احساس گناہ نہیں تھا۔ تختہِ دار پر چڑھنے سے پہلے جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا اسے معصوم جانوں کو ضائع ہونے کا کوئی افسوس ہے تو اس نے کہا کہ بے گناہ لوگوں کی موت محض کولیٹریل ڈیمیج (اضافی نقصان ) تھا۔ اس نے ویت نام جنگ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خود امریکی حکومت اس طرح کے اضافی نقصان کا باعث بنتی رہی ہے اور اسے قبول کرتی ہے۔ ٹمیتھی میکوے کو اپنے مقصد کی سچائی پر اتنا یقین تھا کہ وہ اس کے لئے جان دینے کو بھی تیار ہو گیا۔ غالبا ایمان کی یہ پختگی اور اس کے لئے جان سے گزر جانے کے جذبے والوں کو ہی جہادی کا نام دیا گیا ہے۔ اس طرح کے لوگ دنیا میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں اور بظاہر ایک دوسرے سے متضاد خیالات رکھنے کے باوجود ان کی خصوصیات مشترک ہوتی ہیں۔ سب سے بڑی قدر مشترک اپنے عقیدوں پر حتمی ہونے کا یقین اور اس کے لئے سب کچھ کر گزرنے کا جذبہ۔ امریکی میڈیا کے مطابق تو اس طرح کے لوگ صرف مسلمانوں میں ہی پائے جاتے ہیں لیکن تحقیق کے مطابق، امریکہ میں بھی اس طرح کے 900 گروہ پائے جاتے ہیں جن کو ملیشیا کہا جاتا ہے۔ ان کے ممبران کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔ ان میں سب سے نمایاں کو کلکس کلان، نیو نازی، نسل پرست سر منڈھے، عیسائی شناخت، نئے وفاق پسند اور کچھ اور ہیں۔ یہ گروہ باقاعدہ فوجی تربیت پاتے ہیں اور اپنی اپنی وردی میں ملبوس مارچ کرتے اور مختلف طرح کی کاروائیوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان کی زیادہ تعداد تو جنوب کی بائیبل بیلٹ میں پائی جاتی ہے لیکن یہ واشنگٹن اور نیویارک جیسے شہروں میں بھی پوری طرح سے موجود ہیں۔
یوں تو اکا دکا میلیشا یا جہادی گروہ امریکہ میں ہمیشہ سے موجود رہے ہیں لیکن 1990 کے بعد ان کی تعداد میں کئی ہزار گنا اضافہ ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1990 کے بعد وفاقی حکومت نے دو میلیشیاؤں کے خلاف کاروائی کی جس میں ان کے کافی ممبران مارے گئے۔ اس کے ردعمل میں میلیشیاؤں کے خیالات کے حامیوں کو یقین ہو گیا کہ امریکی حکومت اس سٹیج پر پہنچ چکی ہے جہاں وہ شہری آزادیوں کو نا گزیر طور پر ختم کر دے گی۔ اس کو روکنے کے لئے امریکی قوم کو جہاد کرنا ہوگا۔ اپنے ذہن میں ٹمیتھی میکوے یہی جہاد کر رہا تھا۔ امریکہ میں مسلح میلیشیاؤں کے ابھار کی اور بہت سی وجوہات بتائی جاتی ہیں لیکن سردرن پاورٹی لا سنٹر سے منسلک مسٹر ڈیوڈ لیتھرج کے مطابق ان جہادی گروہوں کو ایک باقاعدہ سکیم کے تحت پیدا کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک سابقہ امریکی فوجی جنرل ،جان سنگلب، نے پہلے لاطینی امریکہ میں ہلاکو دستوں (ڈیتھ سکواڈز) کو ترقی پسند تحریکوں کو کچلنے کے لئے مرتب کیا اور پھر اسی کی طرز پر امریکہ میں میلیشیا تحریک شروع کی تاکہ امریکہ میں ترقی پسندوں، ٹریڈ یونینوں، ہم جنسوں اور تارکین وطن کا خاتمہ کیا جا سکے۔ جنرل سنگلب کے انتہائی رجعت پسند ہلاکو دستوں نے نکراگوا ، ایلسیلویڈور اور چلی میں بہت سے ترقی پسندوں اور انسانی حقوق کی آواز اٹھانے والوں کا قتل کروایا۔ لیتھرج کا دعوی ہے کہ وہ امریکہ میں بھی یہی کچھ کروانا چاہتے ہیں۔ جنرل سنگلب کے علاوہ لیری پلیٹ اور فلپ ہاورڈ اس تحریک کو آگے بڑھانے والے ہیں۔ انہوں نے سیاسی دکھاوے کے لئے یونائیٹڈ سٹیٹ ٹیکس پارٹی بنائی اور جہادیوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کر دیا۔ لیتھرج کا کہنا ہے کہ پلیٹ اور ہاورڈ عیسائیت کے تسلط ہونے پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ گوری عیسائی نسل خدا کی بر گزیدہ ہوتے ہوئے دنیا پر حکومت کی حقدار ہے۔ یہ لوگ امریکہ کے سیکولر قوانین کو ختم کر کے بائیبل کی شریعت کا نفاذ چاہتے ہیں۔ یو ایس اے ٹوڈے کے فلپ جانسن کا کہنا ہے کہ 11/9 کے بعد یہ جہادی گروہ انحطاط پذیر ہوگئے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں اب زیادہ خطرہ باہر سےہے۔ اس کے برعکس یہودیوں کی تعصب دشمن تنظیم اینٹی ڈیفرمیشن لیگ کا کہنا ہے کہ یہ جہادی میلییشیا بے روک ٹوک بڑھ رہے ہیں اور ان کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ جہادی تحریک ریپبلکن پارٹی اور صدر بش کی حامی ہے اور ان سے بہت سی امیدیں لگائے ہوئے ہے۔ اگر امریکی سیاست میں مذہب کا رول بڑھتا رہا تو دن دور نہیں کہ امریکہ کے جہادی بھی میڈیا کو ویسے ہی نظر آنے لگیں گے جیسے اسلامی ملکوں کے۔ یا شاید وہ دنیا کو نظر آنے لگیں لیکن امریکہ میڈیا کو نہیں! |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||