کمشیر کاحل،مہاجر بھی متفق نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے تھوڑے ہی فاصلے پر بھارت کے زیرانتظام کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے کشمیری مہاجرین کا ’کامسر‘ نامی ایک کیمپ ہے۔ مختلف ادوار میں بھارتی افواج کے ’مظالم‘ سے تنگ ہو کر سرحد عبور کر کے اس پار آنے والے کشمیری مہاجرین کی کل تعداد پچیس ہزار کے لگ بھگ ہے جو مختلف کیمپوں میں مقیم ہیں۔ لیکن دریائے نیلم کے کنارے واقع ’کامسر‘ مہاجر کیمپ میں تین سو ستر خاندان رہائش پذیر ہیں جو تئیس سو ساٹھ نفوس پر مشتمل ہیں۔ کیمپ کا نام لیتے ہی ذہن میں خیمے کا تصور پیدا ہوتا ہے لیکن کشمیری مہاجرین کے کیمپوں کی صورتحال اس سے برعکس ہے۔ کام سر سمیت مختلف کیمپوں میں رہائش پذیر مہاجرین نے اپنے پکے مکان تعمیر کر لیے ہیں۔ ’کامسر‘ کیمپ کے رہائشی راجہ اظہار سیمینٹ سے تعمیر کردہ بیٹھک میں پہنچے تو کشمیری دستکاری کے نمونوں والے کمبل بچھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت ساڑھے سات سو فی کس مہاجر کو ماہانہ اخراجات کے مد میں ادا کرتی ہے۔ ساٹھ برس سے زیادہ عمر والے راجہ اظہار اور ان کی گریجوئٹ صاحبزادی نصرت اظہار سمیت بیٹھک میں موجود خواتین اور مرد حضرات سے جب بات چیت ہوئی تو ان سب کا موقف ایک ہی تھا کہ ’سرینگر سے مظفرآباد تک بس سروس کی بحالی کے باوجود وہ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک بھارتی فوج واپس نہیں جائےگی۔‘ ان کی اس بات سے ایسا لگا جیسے انہیں یہ باتیں کرنے کی کوئی تربیت دی گئی ہے۔ یہی سوال جب ان سے کیا گیا تو مسکراتے ہوئے انہوں نے تردید کی۔ مظفرآباد میں کہیں بھی جاتے ہوئے خفیہ ایجنسی کے اہلکار سائے کی طرح ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ کامسر کیمپ کی اس بیٹھک میں بھی خفیہ والے ساتھ بیٹھے رہے اور جب ایک موقع پر میں نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا ان کی وجہ سے آپ لوگ کھل کر بات نہیں کر پا رہے، تو کشمیری مہاجرین اور خفیہ والے ہنس پڑے اور کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ راجہ اظہار سے جب پوچھا کہ کیا ان کے زیراستعمال ’ہائی روف سوزوکی گاڑی خفیہ والوں نے دی ہے تو تھوڑا سا غصہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے چھوٹے بھائی بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ڈپٹی کمشنر ہیں اور کارگل جنگ میں مارے جانے والے اپنے بھائی کی رسومات میں شرکت کے دوران دی گئی رقم سے انہوں نے گاڑی خرید لی ہے۔ تیس برس کی نسرین نے بتایا کہ ان کے شوہر اب بھی پار یعنی بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پولیس میں ’ڈی ایس پی ہیں اور ان سے انہیں دوبچے ہیں جو ان کے ساتھ کیمپ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے لیکن نسرین خود کے لیے دوسری شادی کو گناہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ واپس پار جانے کے لیے انہوں نے بس سروس کا ٹکٹ لینے کے لیے درخواست دی ہے اور وہ اپنے شوہر کے پاس رہنا چاہتی ہیں۔ ایک دوسرے کیمپ میں رہنے والے محمد اقبال خان کا موقف راجہ اظہار سے خاصہ مختلف تھا اور انہوں نے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت دونوں کا کوئی حق نہیں ہے اور کشمیر کشمیریوں کا ہے۔ انہوں نے مسئلے کے حل کے بارے میں کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں کشمیر سے پیچھے ہٹ جائیں، کشمیریوں کو دس پندرہ برس کے لیے اقوام متحدہ کے حوالے کریں اور اس کے بعد رائے شماری کرائی جائے۔ کیمپوں میں رہنے والے کشمری مہاجرین نے پاکستان کے شناختی کارڈ بھی حاصل کر لیے ہیں اور املاک بھی خریدی ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خود کو مہاجرین کہتے ہیں۔ سات اپریل کو سرینگر سے مطفرآباد تک بس سروس کی بحالی کے بارے میں بیشتر کشمیری مہاجرین خوش تو تھے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جنہیں شکایت تھی کہ حکومت من پسند افراد کو اجازت نامے جاری کر رہی ہے اور اس میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں کے کردار کا بھی ذکر کیا۔ ان کے ایسے الزامات کی حکومتی نمائندے سختی سے تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ قرعہ اندازی کے بعد اجازت نامے جاری کرتے ہیں۔ برسوں سے اپنے رشتہ داروں سے دور رہنے والے کشمیری مہاجرین کی اجازت ناموں سے متعلق شکایات اپنی جگہ لیکن بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری مزاکرات سے وہ خاصے خوش تھے۔ راجہ اظہار اور اقبال احمد نے بتایا کہ مزاکرات سے کشیدہ حالات میں بہتری آئی ہے اور وہ نیلم وادی میں دریائے نیلم کے کنارے جمع ہوتے ہیں اور دوسری جانب ان کے رشتہ دار آتے ہیں۔ دونوں جانب کی افواج انہیں تنگ نہیں کرتیں اور وہ با آواز بلند ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں اور پتھروں کے ساتھ خطوط باندھ کر ایک دوسرے کو پھینکتے ہیں۔ ان کے مطابق کئی بار تو دونوں جانب کے کشمیری شادیاں بھی نیلم کے کنارے کرتے ہیں اور ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||