بیساکھی کے موقع پر خصوصی بسیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیراعظم شوکت عزیز نے خیر سگالی کے جذبے کے تحت بیساکھی کے میلے کے موقع پر بھارت سے سکھ یاتریوں کو لانے کے لیے دس خصوصی بسیں چلانے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ میلا پاکستان کے شہر ننکانہ صاحب میں تیرہ اپریل سے شروع ہوگا۔ جس میں ہر سال کافی تعداد میں بھارت اور دنیا کے دیگر ممالک سے سکھ یاتری شرکت کے لیے آتے ہیں۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے یہ خصوصی اجازت سکھ برادری کی خواہشات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی ہے۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ سکھوں کی اس خواہش سے پاکستان کے وزیراعظم کو ان کے بھارتی ہم منصب منموہن سنگھ اور بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے آگاہ کیا تھا۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد یہ دس خصوصی بسیں بھارتی پنجاب سے ننکانہ صاحب تک چلائی جائیں گی۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ امرتسر سے لاہور تک بس سروس شروع کرنے کے لیے بھی جلد انتظامات کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ لاہور سے امرتسر تک بس سروس شروع کرنے کی تجویز پاکستان نے دو سال قبل بھارت کو پیش کی تھی۔ جس پر بھارت کے وزیر خارجہ کنور نٹور سنگھ نے رواں سال فروری میں پاکستان کے دورے کے موقع پر اتفاق کیا تھا۔ واضح رہے کہ دونوں ممالک سات اپریل سے سرینگر سے مظفرآباد کے درمیان بس سروس شروع کرنے پر پہلے ہی اتفاق کر چکے ہیں اور اس ضمن میں انتظامات بھی آخری مراحل میں ہیں۔ دریں اثناء کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر مخدوم فیصل صالح حیات نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ چکوٹھی سے مظفرآباد تک سڑک کی تعیر اور مرمت کے لیے پاکستان کے وزیراعظم نے سولہ کروڑ روپے کی رقم جاری کر دی ہے۔ اس رقم سے ان کے مطابق بسیں بھی خریدی جائیں گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||