BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹرا کشمیر کے حل کیلیے پر امید

شوکت عزیز اور جیک سٹرا
برطانوی وزیرخارجہ تین روزہ دورے پر پاکستان میں ہیں
برطانوی وزیرخارجہ جیک سٹرا نے کہا ہے کہ جس طرح پاکستان اور بھارت کے درمیاں جامع مذاکرات چل رہے ہیں اس سے انہیں قوی امید ہے کہ مستقبل میں کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل نکل آئےگا۔

یہ بات انہوں نے پیر کے روز صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کے بعد اپنے پاکستانی ہم منصب خورشید محمود قصوری کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں کہی۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات مشکلات پیدا ہوتی ہیں لیکن ان کے مطابق انہیں جامع مذاکرات کا مستقبل بہتر لگ رہا ہے۔

برطانوی وزیرخارجہ تین روزہ دورے پر پاکستان آئے ہوئے ہیں۔ وہ پیر کی شب لاہور میں صدر جنرل پرویز مشرف کے’روشن اعتدال پسندی کے خیالات‘ کے موضوع پر لیکچر بھی دے رہے ہیں۔

خورشید محمود قصوری نے اس موقع پر بتایا کہ برطانوی وزیر نے پاکستانی قیادت سے پاک بھارت مذاکرات، جوہری عدم پھیلاؤ، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے موضوعات پر تفصیلی بات چیت کی جبکہ ایران، افغانستان اور عراق کی تازہ صورتحال کے متعلق بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

جیک سٹرا نے ویسے تو بیشتر موضوعات پر پاکستانی قیادت سے بات کی لیکن انہوں نے بریفنگ کا آغاز ہی پاکستان اور بھارت کے درمیاں جاری جامع مذاکرات سے کیا۔ اس سے لگ رہا تھا کہ اس دورے میں وہ دیگر امور کے ساتھ اس معاملے پر خاصی دلچسپی لے رہے ہیں۔

برطانوی وزیر اپنے بھارتی ہم منصب کنور نٹور سنگھ کے پاکستان پہنچنے سے محض ایک دن قبل آئے ہیں ۔ ایسے موقع پر ان کے پاک بھارت مذاکرات میں دلچسپی لینے کو سیاسی مبصرین خاصی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔

بعض تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ بھارتی وزیرخارجہ کے منگل سے شروع ہونے والے پاکستان کے دورے میں امکان ہے کہ سرینگر سے مظفرآباد تک بس سروس شروع کرنے کے متعلق شاید کوئی بڑی پیش رفت ہو۔ لیکن اس ضمن میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔

جیک سٹرا نے ایک سوال پر جہاں جوہری عدم پھیلاؤ کے متعلق اقدامات کے حوالے سے صدر جنرل پرویز مشرف کی تعریف کی وہاں پاکستان حکومت کی جانب سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملنے والی معلومات فراہم کرنے پر اعتماد کا اظہار بھی کیا۔

اس موقع پر خورشید محمود قصوری نے کہا کہ انہوں نے یہ اعتماد قابل یقین انداز میں تحقیقات کرنے اور عالمی برادری کو مطلع کرنے سے کمایا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی میڈیا میں ڈاکٹر خان کے متعلق خبریں شائع ہونے میں امریکہ یا برطانوی حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ البتہ ان کے مطابق وہ فریق اس کے پیچھے ہوسکتے ہیں جو اس معاملے کو زندہ رکھنا چاہتے ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر امریکہ اور برطانیہ کے پاس جوہری پھیلاؤ کے حوالے سے ڈاکٹر قدیر خان کے متعلق تازہ اور نئے شواہد ہیں تو پاکستان اس پر مزید کارروائی کرسکتا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ بدھ کے روز کابل جائیں گے جس کے بعد وہ نئی دلی پہنچیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ بھارتی قیادت کے ساتھ بھی پاک بھارت مذاکرات پر تفصیلی بات چیت کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد