BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 03 January, 2005, 16:48 GMT 21:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر: سروے کرانے کا ارداہ ترک

یہ سروے کشمیر میں سماجی، سیاسی اور انتظامی امور پر ہونا تھا
یہ سروے کشمیر میں سماجی، سیاسی اور انتظامی امور پر ہونا تھا
پاکستان کی وزارت خارجہ کے کہنے پر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کی کونسل یا ایوان بالا کے سیکریٹریٹ نے کشمیر کے اس خطے کا سیاسی، سماجی اور انتظامی معاملات کا سروے کرانے کا ارادہ فی الوقت ترک کردیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے وزارت خارجہ کو یہ اعتراض تھا کہ اس میں شمالی علاقہ جات کو بھی شامل کیا گیا ہے جو تکنیکی یا انتظامی لحاظ سے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا حصہ نہیں ہیں۔

کشمیر کونسل کے سیکریٹریٹ نے مجوزہ تحقیقاتی جائزے کے لئے بعض پاکستانی اخبارات میں گزشتہ دنوں ایک اشتہار شائع کرایا تھا جس نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا، خاص طور پر اس لئے کہ اس ممکنہ مطالعے میں شمالی علاقاجات کو بھی شامل کیا گیا تھا جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔

اس اشتہار کے مطابق کونسل جن معاملات کے بارے میں مطالعہ کرانے کا ارادہ رکھتا تھا ان میں تنازعۂ کشمیر کے ابتدا کے اسباب کے ساتھ ساتھ شمالی علاقہ جات کی پاکستان کے انتظام میں باقی کشمیر سے الگ سیاسی حیثیت اور اس کے مخصوص سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کی وجوہات کا مطالعہ کرانا شامل تھا۔

اس کے علاوہ کشمیر کے اس علاقے کے موجودہ آئین کو اشتہار کے الفاظ میں زیادہ جامع بنانے کے لئے تجاویز کا بھی مطالعہ کرانا تھا۔ اس سروے کو معروف کنسلٹنسی فرموں کے ذریعے کرانا تھا جس کے لئے کنسلٹنسی فرموں سے پشکشیں بھی طلب کی گئی تھیں۔

لیکن پاکستان کی وزارت خارجہ کے اعتراض کے بعد کسی ممکنہ تنازعہ سے بچنے کے لئے حکام کا کہنا ہے کہ اس کو فی الوقت ملتوی کردیا گیا ہے۔

وزارت خارجہ نے کشمیر کے اس علاقے کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان کو ایک خط لکھا ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ کشمیر کونسل کی جانب سے مطالعہ( جائزہ) کرانے کے لئے اشتہار کے ذریعے کنسلٹنسی فرموں سے درخواستیں طلب کرنے کا مقصد واضع نہیں ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اس ممکنہ مطالعے میں شمالی علاقہ جات کو شامل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ خط کے الفاظ میں شمالی علاقہ جات کشمیر کونسل کے دائرہ کار میں نہیں آتا ہے۔

پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے بھی پاکستان کے وزیر برائے امور کشمیر اور شمالی علاقہ جات فیصل صالح حیات سے پیر کے روز ٹیلیفون پر بات کی اور کونسل کے طرف سے ممکنہ طور پر کرائے جانے والے سروے پر اعتراض کیا اور اس کو غیر مناسب اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔

واضع رہے کہ کشمیر کونسل پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا ایک ادارہ ہے لیکن اس کے چیئرمین پاکستان کے چیف ایگزیکیٹیو یا وزیراعظم ہوتے ہیں۔ پاکستان کے وزیر برائے امور کشمیر عہدے کے لحاظ سے کشمیر کونسل کے ممبر ہوتے ہیں۔ اس کے چھ کشمیری ممبران کو کشمیر کے اس علاقے کی اسمبلی منتخب کرتی ہے جبکہ پانچ کو کونسل کے چیئرمین پاکستان کی مرکزی کابینہ اور پارلیمنٹ سے نامزد کرتے ہیں ۔

اب سوال یہ کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ساتھ ساتھ کشمیر کے اس علاقے کی حکوت نے بھی اس تحقیقاتی جائزے کی مخالفت کی تو پھر یہ منصوبہ کس کے ذہین کی اختراح تھی اور اگر ایسا سوچا گیا تھا تو پھر اس پر عمل درآمد کیوں نہ ہوسکا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد