’کشمیری تقسیم نہیں چاہتے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مختلف علاقوں اور ہندوستان کے زیرانتظام ریاست جموں و کشمیر سے پاکستان آئے پچیس صحافیوں نے سات روز تک پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور شمالی علاقوں کا دورہ کیا اور آج ہندوستان روانہ ہونے سے پہلے لاہور میں اپنے دورے کے تاثرات بیان کیے۔ غیرسرکاری تنظیم ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) نے اس دورہ کا انتظام کیا تھا اور اس سے پہلے پاکستانی صحافی ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اس طرح کا ایک دورہ کرکے آچکے ہیں۔ ہندوستان سے آئے صحافی مظفرآباد، لائن آف کنٹرول کے قریب واقع علاقہ چکوٹھی، میرپور اور گلگت بھی گئے ۔ سری نگر میں انگریزی اخبار ہندو کے بیورو چیف شجاعت بخاری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دورہ میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کرکے انہیں سب سے اہم بات یہ محسوس ہوئی کہ لوگ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کے کشمیریوں پر آنے جانے اور ایک دوسرے سے ملنے جلنے کی پابندیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے کشمیری ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم نہیں چاہتے اور نہ موجودہ تقسیم کو قبول کرتے ہیں۔ ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک اور صحافی پشپ صراف نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دراندازوں کے کیمپ نظر آئے، کہا کہ وہ پانچ سال پہلے بھی پاکستان آئے تھے اور یہاں کشمیر کے ان علاقوں میں گئے تھے جہاں اس بار گئے اور ان کا خیال ہے اس عرصہ میں ماحول خاصا بدل گیا ہے اور اب وہ لوگ نظر نہیں آتے جو پہلے نظر آتے تھے۔ وفد کے قائد اور صحافی ونود شرما نے کہا کہ یہ دورہ غیر سیاسی تھا اور اس کا مقصد لائن آف کنٹرول کے اس پار کشمیر کے لوگوں سے بات چیت کرنا تھا اور یہ دیکھنا تھا کہ لوگ کیا کہہ رہے ہیں۔ ونود شرما کا کہنا تھا کہ انہیں چکوٹھی جا کر اس بات کا اندازہ ہوا کہ لائن آف کنٹرول پر سیز فائر سے وہاں رہنے والے لوگوں کو بہت سکھ ملا ہے اور اس بات کا پورا اندازہ وہاں جاکر خود دیکھ کر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ونود شرما نے کہا کہ چکوٹھی میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے صحافی یوسف جمیل نے کہا کہ دوسری طرف کا کشیمری شہر صرف گیارہ کوس دور ہے لیکن اس سرحد سے ہم وہاں نہیں جاسکتے اور ان کا یہ تبصرہ کشمیریوں کی عام رائے کا عکاس تھا جو آپس میں ملنا جلنا چاہتے ہیں۔ کشمیری صحافی ظفر معراج نے کہا کہ اس دورہ میں ان پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف ایک دوسرے کے بارے میں خاصی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں لوگوں نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہندوستان کے زیرانتظام کشمیر میں اخبار نکلتے ہیں اور ہمیں انہیں یہ باور کرانے میں خاصی کوشش کرنا پڑی کہ وہاں اخبار نکلتے ہیں اور ان پر جو دباؤ ہے وہ سب طرف سے ہے جس کا وہاں کے صحافی مقابلہ کرتے ہیں اور انہوں نے پریس کو آزاد رکھا ہوا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول کے اس طرف ایک جنگ جاری ہے اور وہاں حالات ایسے نہیں ہیں جیسے امن کے زمانے میں ہوتے ہیں۔ وہاں سڑکوں پر فوج دکھائی دیتی ہے جو یہاں کے کشمیر میں نظر نہیں آتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہاں بھی مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں لوگوں میں مختلف نظریات اور خیالات پائے جاتے ہیں اور مظفرآباد یونیورسٹی کے طالب علموں میں خاصا جوش نظر آیا۔ کشمیری صحافی یوسف جمیل نے کہا کہ کشمیر میں دو سو صحافی ہیں اور دس سال میں پندرہ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پریس کو آزاد رکھنے کے لیے کتنی قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری صحافیوں کو سچ لکھنے کے لیے اپنی جان دینے کی بھی پرواہ نہیں۔ روزنامہ ہندو کے صحافی شجاعت بخاری کا کہنا تھا کہ ہندوستان کےزیرانتظام کشمیر اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کا کسی طرح بھی ایک دوسرے سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا، نہ سیکیورٹی کے ماحول کے حوالہ سے، نہ پریس کے حوالہ سے اور نہ ترقی کے اعتبار سے۔ دورہ کا انتظام کرنے والی تنظیم سیفما کے سیکرٹی جنرل امتیاز عالم نے کہا کہ اس دورہ سے بہت فرق پڑا ہے اور دونوں طرف کی اسٹیبلیشمینٹ کے نقطۂ نظر میں فرق پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان دوروں سے پاکستان کی اسٹیبلیشمینٹ کے جموں اور کچھ کشمیری سیاستدانوں کے بارے میں خیالات میں تبدیلی آ ئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||